وردی اور شہریوں کی عزت کا خیال کئے بغیر کارروائیاں۔ اخلاقیات کو برقرار رکھنے عوام کا زور
حیدرآباد۔ 17 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں اب ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ پولیس اپنی قدیم روش اختیار کررہی ہے چونکہ ڈی جی پی کے حالیہ بیان کے بعد شائد پولیس کو ایک بہانہ مل گیا حالانکہ فرینڈلی پولیسنگ کا ڈی جی پی نے خلاصہ کردیا، باوجود اس کے شہر میں ٹریفک اور لا اینڈ آرڈر پولیس کے رویہ پر شہری شدید تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ فرینڈلی پولیسنگ کی اگر ضرورت نہ سہی لیکن پولیس کو اخلاق کا دائرہ بنانا ضروری تصور کیا جارہا ہے۔ عہدہ اور اختیارات کے دائرے میں اخلاقیات کو اگر اہمیت دی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف محکمہ کی ساکھ بحال ہوگی بلکہ حقیقی فرینڈلی پولیسنگ کا عملی نمونہ ثابت ہوگی۔ چونکہ لاٹھی اور سیٹی جانے کے بعد ٹریفک پولیس کے ہاتھ میں صرف کیمرہ اور فون آگیا جس کے ذریعہ من مانی جرمانے عائد کئے جارہے ہیں اور اس کام میں ہوم گارڈز کا رویہ یقینی افسوس کا سبب بنا ہوا ہے۔ بے لگام عملہ اور اعلیٰ عہدیداروں کے احکام وردی کو رسواء کرنے کا سبب بننے کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ صرف چالانات پر توجہ کی وجہ سے شہر کی سڑکوں سے ایمبولینس کا گذرنا بھی مشکل ہورہا ہے چونکہ ٹریفک پولیس کا عملہ ٹریفک بہاؤ پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ ساری توجہ چالانات پر ہے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ لوگ وردی میں قانون کے محافظ ہیں۔ شہریوں سے اُن کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے، نہ ہی شہریوں کی عزت کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے عہدہ اور رتبہ کا انہیں احساس ہے۔ تقریباً سبھی چوراہوں اور گلی کوچوں، شہر کے اہم راستوں پر پولیس عوام کے ساتھ رسواکن رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ شہر کے علاوہ سائبرآباد اور پولیس کے دیگر عہدوں پر خدمات کے بعد اب پولیس سربراہ کا عہدہ سنبھالنے والے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے شہریوں نے درخواست کی کہ یقیناً فرینڈلی پولیسنگ کے کچھ دائرے اور حدود ہونے چاہئے، لیکن مورل پولیسنگ کو بھی یقینی بنانے سے شہریوں میں پولیس کے وقار اور عزت میں اضافہ ہوگا۔ شہریوں نے ڈی جی پی سی وی آنند سے اس جانب توجہ کی درخواست کی ہے۔ بKJ