پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے تک اضافہ کا اندیشہ

,

   

نئی دہلی 27 اپریل ( ایجنسیز) ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو آئندہ مہینوں میں ایندھن کی قیمتیں صارفین پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہیں۔ایمکے گلوبل فنانشل سروسز کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 10 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر خام تیل کی قیمتیں آئندہ دو سے تین سہ ماہیوں تک 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں تو یہ اضافہ بڑھ کر 18 سے 20 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت بھارت کی خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے، جس کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو فی لیٹر تقریباً 18 تا 20 روپے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے، تاہم مکمل بوجھ صارفین پر ڈالنے کا امکان کم بتایا گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اچانک اضافہ مہنگائی میں تیزی، معاشی دباؤ اور ترقی کی رفتار میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کی ٹیکس وصولی متاثر ہونے اور مالیاتی خسارے میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سے آٹوموبائل، لاجسٹکس اور دیگر صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے کو فائدہ کی توقع ہے۔ صارفین کی طلب میں کمی کا امکان بھی ہے، جس سے مختلف کاروباری شعبوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین نے اس بحران کو وقتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عالمی حالات بہتر ہوتے ہیں تو قیمتوں میں استحکام بھی ممکن ہے، لیکن فی الحال آنے والے تین سے چھ ماہ صارفین کے لیے چیلنجنگ ثابت ہو سکتے ہیں۔