٭ کیا پپیتا کے پتوں کے رس میں ڈینگو کا علاج ہے؟ مانسون سیزن کے دوران یہ میسیج وائرل ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مچھر سے ہونے والی ڈینگو کے علاج کیلئے پپیتا کے پتوں کا رس استعمال کریں۔ واٹس ایپ میسیج میں بتایا گیا کہ پپیتا کے پتوں کا رس حیرت انگیز اثر رکھتا ہے۔ اندرون 12 گھنٹے پلیٹ لیٹ کی تعداد 68,000 سے 2,00,000 ہورہی ہے۔ ڈینگو بخار ملک بھر میں ہے۔ لہٰذا اس میسیج کو عام کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹرس نے اس دعویٰ کو غلط بتایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ غلط میسیج پھیلانے والوں کے خلاف حکومت کارروائی کرے۔ ڈاکٹرس اسوسی ایشن برائے سماجی انصاف کے سکریٹری ڈاکٹر شانتی رویندر ناتھ نے بتایا کہ ڈینگو کے علاج کی بنیاد سائنس ہے۔ طبی تحقیق کے ذریعہ اس کو مؤثر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پپیتا کے پتوں سے علاج کے دعوے کی حمایت کیلئے کوئی طبی بنیاد نہیں۔ یہاں تک کہ سدھا کے ڈاکٹرس بھی اس کی سفارش نہیں کرتے۔ ٹاملناڈو کے محکمہ صحت نے بھی ڈینگو کی علامتوں پر فوری ڈاکٹر سے رجوع ہونے کی سفارش کی۔ ڈاکٹرس نے انتباہ دیا ہیکہ ایسے میسیج پھیلانا انتہائی خطرناک ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہیکہ وہ اس کی وضاحت کرے کہ یہ جھوٹے پیامات ہیں۔