انگلینڈ میزبانوں کو پہلا ٹسٹ ہرانے کے بعد سیریز 1-3 سے ہارا تھا۔ مختلف کپتان کیساتھ مہمانوں کو بہتر توقع
احمد آباد: پہلے ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میچ میں آٹھ وکٹوں کی کراری شکست کے بعد ہندوستان کو پانچ میچوں کی سیریز میں برابری حاصل کرنے کیلئے اتوار کو یہاں نریندر مودی اسٹیڈیم میں مقررہ دوسرے میچ سے قبل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ ہندوستانی ٹیم گزشتہ روز پہلے میچ میں 20 اوورز میں 7وکٹوں پر 124 رنز کا معمولی اسکور ہی بناپائی تھی، جبکہ انگلینڈ نے 15.3 اوورز میں 130/2 بناکر یکطرفہ انداز میں ہدف حاصل کرلیا۔ ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ انگلینڈ نے جو روٹ کی قیادت میں رواں سیریز سے قبل ٹسٹ میچز میں پہلا مقابلہ اسی طرح جیتا تھا جیسے پہلا ٹی ٹوئنٹی جیتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اب انگلش کیپٹن اوئن مورگن ہیں جبکہ ٹیم انڈیا کی طرف سے ویراٹ کوہلی بدستور کپتان ہیں۔ پہلے T20 میچ میں ٹیم انڈیا کی ساری حکمت عملی غلط ثابت ہوئی۔ سب سے پہلے اوپنر روہت شرما کو آرام دینا ہی ایک غلط فیصلہ تھا۔ ٹیم انتظامیہ نے روہت کو آرام دے کر شکھر دھون اور لوکیش راہل کواوپننگ میں آزمایا لیکن دونوں ہی فلاپ رہے ۔ ٹیم کو اگربرابری حاصل کرنی ہے تو پھر اسے روہت کو اوپننگ میں واپس لانا ہوگا۔ کپتان کوہلی نے میچ کے بعد کہا تھاکہ کھلاڑیوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اوراپنے شاٹس ٹھیک طرح سے نہیں کھیلے لیکن ویراٹ کو اپنی بات کو پہلے خود پر نافذ کرنا ہوگا کیونکہ وہ صفر پر آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ گئے تھے ۔ ٹیم کو وکٹ کیپر رشبھ پنت کے بیٹنگ آرڈر کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔پنت کو چوتھے نمبر اوربیٹنگ آل راؤنڈر واشنگٹن سندر کو اٹھویں نمبر پر بھیجاگیا تھا۔ سندر کو پنت اور ہاردک پانڈیا جیسے ہٹر سے اوپر بھیجا جانا چاہئے ، تاکہ انہیں اننگز کو سنبھالنے کا پورا موقع ملے ۔ پنت اور پانڈیا جیسے ہٹرکو اختتامی اووروز میں بھیجنا ہی ٹھیک ہوگا جہاں ان کا کام صرف گیندباز کی پٹائی کرنا رہے۔ پہلے میچ میں ٹیم میں تین اسپنرز کھیلے لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ ٹیم کو یزویندر چہل اور کلدیپ یادو کی پرانی جوڑی کی اشد ضرورت ہے ۔ آف اسپنر روی چندرن اشوین کو مختصر فارمٹ سے کب تک دور رکھا جاسکتا ہے ، اگر ویراٹ کی نظر میں سندر اور اشوین ایک ہی انداز کے کھلاڑی ہیں توگیندبازی کے لحاظ سے اشون کو ہی موقع ملنا چاہئے اور اگر بلے باز کے لحاظ سے سندرکوکھیلایا جاتا ہے تو انہیں بلے بازی آرڈر میں اوپر موقع ملنا چاہیے ۔ انگلینڈ کی ٹیم پوری تیاری کے ساتھ اس سیریز میں اتری ہے اور ان کے کھلاڑی کھیل کے ہر شعبے میں ہندوستانی کھلاڑیوں سے بہتر دکھائی دے رہے ہیں۔ انگلینڈ نے ہندوستان پر ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 7-8کی برتری حاصل کرلی ہے ۔ اب یہ کپتان وراٹ پر منحصر ہے کہ آیا وہ اپنی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز کی طرح واپسی کے لئے ترغیب دے سکتے یانہیں۔