سیول ۔ 31 اگست (ایجنسیز) جنوبی کوریا میں طاقتور اور پراسرار سمجھے جانے والے یونیفیکیشن چرچ کی سربراہ ہان ہاک جا کو رشوت کے مقدمہ میں دو سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ سیول کی ایک عدالت نے پیر کو 83 سالہ ہان ہاک جا کو سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے سابق خاتونِ اول کِم کون ہی کو مہنگے تحائف دینے کے الزام میں قصوروار قرار دیا۔ ہان ہاک جا، چرچ کے بانی سْن میونگ مون کی بیوہ ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک ذریعہ کے ذریعہ سابق خاتونِ اول کو مہنگا ڈیزائنر ہینڈ بیگ اور دیگر قیمتی تحائف دیے تاکہ سیاسی معاملات میں اپنے مفادات حاصل کیے جا سکیں۔ ہان ہاک جا نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔ ان کے وکلا نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب سابق خاتونِ اول کِم کون ہی کو بھی رشوت اور تحائف وصول کرنے کے مقدمے میں سزا ہو چکی ہے۔ انہیں جنوری میں 20 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد میں اپریل میں اپیل کورٹ نے مزید الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے ان کی سزا بڑھا کر چار سال کر دی۔ کِم کے شوہر اور جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول بھی اس وقت جیل میں ہیں۔ انہیں ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے بعد عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔