انتخابی مفاہمت پر ایک گھنٹہ بات چیت، جنا سینا و بی جے پی کی مدد سے برسر اقتدار آنے کی کوشش
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری(سیاست نیوز) آندھراپردیش میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات سے عین قبل نئی سیاسی صف بندیوں کیلئے سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ صدر تلگو دیشم چندرا بابو نائیڈو نے پون کلیان کی جنا سینا سے انتخابی مفاہمت کے بعد دہلی میں بی جے پی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ 50 منٹ تک دونوں قائدین کی بات ہوئی ۔ آندھراپردیش میں مفاہمت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ تلگو دیشم اور جنا سینا کے ساتھ متحدہ طور پر اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں حصہ لے۔ بی جے پی لوک سبھا کی 5 اور اسمبلی کی 10 نشستوں کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی اور جنا سینا کو 30 اسمبلی نشستوں اور لوک سبھا کی 7 نشستوں کو الاٹ کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ جگن موہن ریڈی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنے چندرا باو نائیڈو بی جے پی سے مفاہمت کیلئے تیار ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ابتداء میں چندرا بابو نائیڈو نے مسلم اقلیت کی تائید سے محرومی کے اندیشہ کے تحت بی جے پی سے دوری کا فیصلہ کیا تھا لیکن قومی سطح پر تبدیل شدہ سیاسی صورتحال اور مودی کی مقبولیت میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بی جے پی سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا۔ امیت شاہ نے آندھراپردیش میں بی جے پی کے استحکام کیلئے چندرا بابو نائیڈو سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ ایک گھنٹہ تک جاری بات چیت میں انتخابی مفاہمت کو تقریباً قطعیت دی گئی ۔ اسی دوران چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آندھراپردیش کے مفادات ان کی اولین ترجیح ہے اور پارٹی قائدین سے مشاورت کے بعد وہ قطعی اعلان کریں گے۔ 1
تقسیم ریاست ‘ تلنگانہ کے مسائل پر اجلاس
حیدرآباد 8 فروری(سیاست نیوز) مرکزی وزارت داخلہ تقسیم آندھراپردیش قانون پر 16 فروری کو اجلاس میں تلنگانہ کے حل طلب امور کا جائزہ لے گی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بتایا کہ تقسیم ریاست قانون کے امور اور دیگرحل طلب معاملات کے متعلق تصفیہ کیلئے اجلا س میں تعلیمی ادارہ جات‘ انفراسٹرکچر‘ پراجکٹس و دیگر معاملات جو 13ویں شیڈول میں شامل ہیں کا جائزہ لیا جائیگا ۔ مرکز کی جانب سے تلنگانہ سے متعلق امور پر ہی یہ اجلاس منعقد ہوگا۔3