عمارت حکومت کے تہذیبی ورثہ میں شامل ، آرکیالوجیکل ڈپارٹمنٹ اور ایچ ایم ڈی اے کی خاموشی کو چیالنج
حیدرآباد۔14 اپریل(سیاست نیوز) چیران پیالس کے انہدامی کاروائی پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکم التواء جاری کرتے ہوئے مذکورہ عمارت کے معاملہ میں جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ جناب سید علی جعفری ایڈوکیٹ نے چیران فورٹ پیالس کے انہدام سے متعلق مقدمہ میں داخل کی گئی درخواست میں بحث کے دوران عدالت کو اس بات سے واقف کروایا کہ مذکورہ تاریخی عمارت ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے تہذیبی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے جسے منہدم نہیں کیا جاسکتا ۔ انہو ںنے عدالت کو عمارت کے انہدام پر تلنگانہ آرکیالوجیکل ڈپارٹمنٹ اور حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی کو چیالنج کرتے ہوئے کہا کہ جن تہذیبی عمارتوں کی زمرہ بندی کرتے ہوئے انہیں محفوظ قرار دیا گیا ہے ان میں ’’چیران فورٹ پیالس‘‘ کو دوسرے درجہ کی محفوظ عمارتوں میں رکھا گیا ہے جنہیں جائیداد کو لیز پر حاصل کرنے والوں کی جانب سے منہدم کرتے ہوئے اس کی تاریخی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران سینیئر وکیل نے منہدم کرنے والوں کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے اپنی دلائل پیش کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ انہیں اس مقدمہ میں فریق نہیں بنایاگیا ہے اور نہ ہی نوٹس دی گئی ہے ۔ جناب سید علی جعفری نے کہا کہ وہ تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے لئے عدالت سے رجوع ہوئے ہیں اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری متعلقہ محکمہ جات پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ چیران فورٹ ایک تاریخی عمارت ہے اور اس کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے مذکورہ تاریخی عمارت میں مزید کسی بھی طرح کی انہدامی کاروائی کو روکنے اور نئی تعمیرات نہ کرنے کے علاوہ عمارت کا جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کیے جانے کو چیران فورٹ پیالس کے تحفظ کے لئے کوشش کرنے والوں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہاہے۔ جسٹس شرون کی بنچ پر ہوئی اس سماعت کے دوران پیش کئے گئے استدلال کی سماعت کے بعد معزز جج نے حکم التواء جاری کرتے ہوئے مقدمہ کی آئندہ سماعت 16 اپریل کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔3/k/b