چیف منسٹر ریونت ریڈی کی حکمرانی کے سی آر سے بہتر

   

Grok چیاٹ بوٹ کا دلچسپ تبصرہ، فلاحی اسکیمات اور 57 ہزار جائیدادوں پر تقررات کا تذکرہ

حیدرآباد۔/26 مارچ، ( سیاست نیوز) سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ایکس آرٹیفیشل انٹلیجنس کی جانب سے ڈیولپ کردہ Grok چیاٹ بوٹ ان دنوں عوام میں کافی مقبول ہوچکا ہے۔سیاسی پارٹیوں اور قائدین کے بارے میں اس چیاٹ بوٹ کے ذریعہ عوام رائے حاصل کررہے ہیں۔ Grok چیاٹ بوٹ نے چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کی ستائش کرتے ہوئے تفصیلات جاری کی ہیں جسے کانگریس قائدین اور کارکنوں کی جانب سے وائرل کیا جارہا ہے۔ Grok پر کسی بھی معلومات کے سلسلہ میں استفادہ کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ ایک شہری نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے Grok چیاٹ بوٹ سے سوال کیا کہ آیا اس میں کوئی سچائی ہے۔ جس کے جواب میں Grok آرٹیفشل انٹلیجنس چیاٹ بوٹ نے ریونت ریڈی کی ستائش کی۔ گروک نے لکھا کہ چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کی حکمرانی میں جائیدادوں پر تقررات کئے گئے، کسانوں کے قرض معاف کئے گئے اور بنیادی سہولتوں میں اضافہ کیا گیا۔ نوا تلنگانہ کے نعرہ کے تحت کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اپوزیشن پارٹی سے اختلافات کے باوجود ریونت ریڈی حکومت کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ سابق حکومت کے مقابلہ ریونت ریڈی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں پوچھے جانے پر گروک نے کہا کہ ریونت ریڈی کی حکمرانی فلاحی اسکیمات اور جائیدادوں پر تقررات کے معاملہ میں سابق چیف منسٹرکے سی آر سے بہتر ہے۔ خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت، پکوان گیس سلینڈر کی سبسیڈی پر اجرائی، 57 ہزار جائیدادوں پر تقررات، بیروزگاری کی شرح میں 8.8 فیصد سے 6.1 فیصد کی کمی کا بھی گروک نے تذکرہ کیا۔ گروک کی جانب سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے حق میں تبصرہ کو تیزی سے کانگریس حلقوں میں وائرل کیا جارہا ہے۔1

ایم ایم ٹی ایس واقعہ پر پولیس کی بروقت کارروائی: ریونت ریڈی
حیدرآباد۔/26 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے امن و ضبط کی صورتحال پر اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ایم ایم ٹی ایس میں لڑکی پر جنسی حملہ کے واقعہ کے سلسلہ میں پولیس نے فوری کارروائی کی ہے اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جرائم پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس دور حکومت میں دیشا عصمت ریزی واقعہ کے علاوہ وکیل جوڑے کے دن دہاڑے قتل کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسوقت کی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ جوبلی ہلز عصمت ریزی کیس میں بی آر ایس کے لیڈر کے فرزند ملوث ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ ایم ایم ٹی ایس واقعہ پر پولیس نے فوری کارروائی کی ہے۔1