پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع کیلئے 100 کروڑ جاری، حیدرآباد ہماری شان : ریونت ریڈی
حیدرآباد ۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ماہ رمضان کے پیش نظر آئمہ مؤدنین کے ماہانہ مشاہرہ کے تمام بقایا جات فوری جاری کردینے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔ آج اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ پرانا شہر ہی اصل حیدرآباد شہر ہے۔ اس کی ترقی کیلئے کانگریس حکومت سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔ پرانے شہر میں میٹرو ٹرین کے کاموں کا آغاز ہوگیا ہے۔ پرانے شہر میں ایک فلائی اوور کا افتتاح ہوگیا ہے۔ چندرائن گٹہ میں انڈر گراونڈ ڈرینج ورکس کے کام بھی شروع ہوگئے ہیں۔ پرانے شہر میں سڑک کی توسیع کیلئے 100 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے ہیں۔ اقلیتی بجٹ کی عدم اجرائی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ مالی مسائل کے باعث مکمل بجٹ جاری نہیں ہوسکا لیکن آئندہ سال اقلیتی بجٹ مکمل جاری کرنے کے ضرور اقدامات کرنے کا تیقن دیا۔ ریسیڈنشیل اسکولس کے معاملے میں اکبرالدین اویسی نے کئی تجاویز پیش کی ہے۔ وہ شہر کے انچارج وزیر پونم پربھاکر کو ہدایت دے رہے ہیں۔ وہ متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ اکبرالدین اویسی کا ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے ان تجاویز پر کامیاب حکمت عملی تیار کریں۔ ان کاموں کو جلد از جلد سے مکمل کریں۔ فروٹ مارکٹ کا مسئلہ ہائیکورٹ میں ہے، مگر اس کو جلد از جلد حل کرنے کی وہ کوشش کریں گے۔ فیس ریمبرسمنٹ اور اسکالرشپس کی اجرائی پر وزیرفینانس ضرور کوئی حل نکالیں گے، انہیں اس کی امید ہے۔ یہاں بھی مالی مسائل کا مسئلہ ہے۔ منشیات کے خلاف کانگریس حکومت کام کررہی ہے۔ اسکولس اور کالجس پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ڈرگس فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ان کے گھر کے برقی اور پانی کے کنکشنس بھی منقطع کردینے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ حیدرآباد میں ٹریفک مسائل دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں۔ اس کا حل نکالنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے ملٹی ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف کرانے پر غور کیا جارہا ہے۔ شہر کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کیلئے 15 سال قدیم گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ حیدرآباد کو بچانے کی ہماری ذمہ داری ہے۔ دہلی آلودگی سے پریشان ہے۔ ہم کو ابھی سے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ شہر حیدرآباد کو آلودگی سے پاک بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ صنعتوں کو شہر سے باہر کیا جائے گا۔ اس کیلئے بھی عوامی منتخب نمائندوں کی رائے حاصل کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے لال دروازہ مندر کی ترقی کیلئے اسپیشل ڈیولپمنٹ فنڈز سے فوری آج ہی 20 کروڑ روپئے جاری کرنے کا عہدیداروں کو حکم دیا اور جی او کی اجرائی میں اکبرالدین اویسی کی نمائندگی کا تذکرہ کرنے پر زور دیا۔2