26 ارکان اسمبلی ’ ریڈ زون‘ جبکہ14 ’آرینج‘ زون میں، تین وزراء کے بارے میں منفی رپورٹ، ایک سال کی تکمیل پر عوامی رائے جاننے کی کوشش
حیدرآباد۔/5 جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حکومت کے ایک سال کی تکمیل پر عوامی نمائندوں کے بارے میں عوام کی رائے جاننے کیلئے سروے کا اہتمام کرتے ہوئے پارٹی ارکان اسمبلی میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل میں تاخیر کو بنیاد بناکر بی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے حکومت کے خلاف شروع کی گئی مہم کے پس منظر میں چیف منسٹر نے عوامی رائے جاننے کیلئے سروے کا اہتمام کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انٹلیجنس اور بعض خانگی اداروں سے مدد حاصل کرتے ہوئے 119 اسمبلی حلقہ جات کی صورتحال جاننے کی کوشش کی گئی۔ کانگریس کے 26 ارکان اسمبلی کے بارے میں سروے رپورٹس اطمینان بخش نہیں آئے اور باوثوق ذرائع کے مطابق عوام نے بھی مذکورہ ارکان اسمبلی کے بارے میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری اسکیمات پر عمل آوری میں ارکان اسمبلی کی عدم دلچسپی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سروے کے تحت ارکان اسمبلی کو 3 زمرہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ارکان اسمبلی میں موجودہ وزراء کی کارکردگی کے بارے میں بھی عوامی رائے حاصل کی گئی۔ ذرائع کے مطابق سروے رپورٹ میں تین زمرہ جات کے تحت ارکان اسمبلی کو تقسیم کیا گیا۔ ناقص اور کمزور کارکردگی والے ارکان اسمبلی کو ’ ریڈ زون‘ میں رکھا گیا ہے جبکہ 14 ارکان اسمبلی کی کارکردگی اوسط پائی گئی جنہیں ’آرینج ‘ زمرہ میں شامل کیا گیا۔ پارٹی کے باقی ارکان اسمبلی کو ’ سیف زون‘ میں رکھا گیا ہے جس کا مطلب ان کی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ اطلاعات کے مطابق تین ریاستی وزراء کی کارکردگی کے بارے میں سروے رپورٹ مثبت نہیں رہی اور اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ تینوں وزراء کے اسمبلی حلقہ جات میں عوام کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔’ ریڈ زون‘ میں شامل ارکان اسمبلی کے بارے میں عام طور پر عوام کا تاثر ہے کہ وہ بہت کم اپنے حلقہ میں دکھائی دیتے ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت حیدرآباد میں گذاررہے ہیں۔ شخصی مفادات کی تکمیل اور تجارتی سرگرمیوں کے سلسلہ میں ارکان اسمبلی زیادہ تر حیدرآباد میں قیام کو ترجیح دے رہے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام کو اپنے مسائل کیلئے حیدرآباد کا سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ ترقیاتی سرگرمیوں کے علاوہ مقامی کانگریس کیڈر کو نظرانداز کرنے کی شکایات ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے سروے رپورٹ کی تفصیلات سے ارکان اسمبلی کو واقف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ کارکردگی کے انداز میں تبدیلی لائیں اور زیادہ تر وقت اسمبلی حلقہ میں گذاریں۔ چیف منسٹر مجالس مقامی کے انتخابات میں پارٹی کے بہتر مظاہرہ کیلئے ایسے حلقہ جات میں ارکان اسمبلی کے بجائے عوام میں سرگرم پارٹی قائدین کو انچارج مقرر کرنے پر غور کررہے ہیں۔ پارٹی ہائی کمان کی منظوری حاصل کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ’ ریڈ زون‘ میں موجود 8 تا 10 ارکان اسمبلی ریت کی اسمگلنگ اور رئیل اسٹیٹ تنازعات کی یکسوئی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حال ہی میں ارکان اسمبلی کو اس طرح کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔’ آرینج‘ زون کے ارکان اسمبلی کے بارے میں شکایت ہے کہ وہ حلقہ جات کا دورہ توکررہے ہیں لیکن عوامی مسائل کی یکسوئی میں دلچسپی نہیں۔ اس کے علاوہ مقامی کانگریس قائدین اور کیڈر کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ایسے ارکان اسمبلی جو پہلی بار اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے ہیں ان میں سے زیادہ تر ریڈ اور آرینج زمرہ میں شامل ہیں۔ تین ریاستی وزراء کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ضلع میں گروہ بندیوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور دیگر اسمبلی حلقہ جات کے امور میں مداخلت کی جارہی ہے۔ مذکورہ وزراء کو اپنے قلمدان سے زیادہ دیگر امور میں دلچسپی دیکھی گئی ہے۔ چیف منسٹر نے جاریہ ماہ کے اواخر میں ’ ریڈ‘ اور ’ آرینج‘ زمرہ کے ارکان اسمبلی سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ ورلڈ اِکنامک فورم کے اجلاس سے واپسی کے بعد سروے رپورٹ کے ساتھ یہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی سروے میں کوڑنگل اسمبلی حلقہ میں چیف منسٹر کے خلاف ناراضگی نہیں دیکھی گئی۔ حالیہ دنوں میں لگچرلہ واقعہ کے بعد کسانوں میں ناراضگی کی تشہیر کی گئی۔ انڈسٹریل زون کے قیام کیلئے حکومت نے اراضی کے حصول کی کوشش کی تھی جس کی مقامی عوام نے مخالفت کی۔ عہدیداروں پر حملہ اور اپوزیشن کی جانب سے کسانوں کو مشتعل کرنے کی کوششوں کے بعد چیف منسٹر نے انڈسٹریل زون کے قیام کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرلی۔ چیف منسٹر کے انتخابی حلقہ میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے اور ریونت ریڈی ہفتہ میں ایک بار اپنے حلقہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسمبلی کے بجٹ سیشن کے بعد چیف منسٹر اضلاع کے دورہ کا آغاز کریں گے تاکہ عوامی رابطہ کے ذریعہ اپوزیشن کی مہم کو کمزور کیا جاسکے۔1