چین نے مکی کو دہشت گرد قرار دینے کی ہند۔ امریکہ کوشش روک دی

   

بیجنگ : امریکہ نے لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے برادر نسبتی عبدالرحمن مکی کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ میں بھی مکی کو دہشت گرد قرار دینے کی امریکہ اور ہندوستان کی مشترکہ کوشش چین نے روک دی۔ چین نے 17جون کو اقوام متحدہ میں ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کردہ اس تجویز کو آخری لمحوں میں روک دیا جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مبینہ عسکریت پسند عبدالرحمن مکی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے داعش اور القاعدہ پر پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی کے تحت ایک ’’عالمی دہشت گرد‘‘ قرار دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ عبدالرحمن مکی کو امریکہ نے پہلے ہی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ وہ لشکر طیبہ کے سربراہ اور ممبئی بم دھماکوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کے برادر نسبتی ہیں۔ ممبئی میں 2008 میں 26 نومبر کو ہونے والے اس سلسلہ وار دہشت گردانہ حملے میں 175افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہندوستان ان حملوں کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والی تنظیم لشکرطیبہ کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔چین پہلے بھی پاکستان سے سرگرم مبینہ دہشت گردوں کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانے کی ہندوستان اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کو ناکام بنا چکا ہے۔ایک دہائی کی جدوجہد کے بعد پہلی کامیابی مئی 2019 میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کو اس وقت ایک زبردست سفارتی کامیابی ملی تھی جب اس عالمی ادارے نے پاکستان سے سرگرم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو’’عالمی دہشت گرد‘‘ قرار دیا تھا۔ نئی دہلی کو یہ کامیابی تقریباً ایک دہائی کی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی تھی۔چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اس لیے اس کے پاس ویٹو پاور ہے اور سلامتی کونسل میں کسی تجویز کی منظوری کیلئے مستقل اور غیر مستقل تمام 15 اراکین کا متفق ہونا ضروری ہے۔ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کیلئے 2009میں ہندوستان نے خود ہی ایک تجویز پیش کی تھی، لیکن کامیابی نہیں ملی۔
2016 میں اس نے سلامتی کونسل کے تین مستقل اراکین امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر ایک بار پھر تجویز پیش کی کہ مسعود اظہر پر پابندی عائد کی جائے۔ تاہم اس مرتبہ بھی اسے کامیابی نہیں مل سکی۔