چین کے لون ایپس نقصاندہ، حکومت خاموشی توڑے

   

4 سال میں ایپس کی تعداد میں 12 گنا اضافہ ، فرضی ایپس 1100 سے زیادہ ہوگئے:کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ چین کے لون ایپس ملک کے لوگوں کو سوشل میڈیا پر لوٹ رہے ہیں اور ان کے تشدد سے کئی لوگوں نے خودکشی کر لی ہے ۔چینی ایپس نے 500 کروڑ روپے سے زیادہ لوٹ چکے ہیں۔کانگریس ترجمان گورو بلّو نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ریزرو بینک کی رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2000 کے درمیان سوشل میڈیا پر اس طرح کے ایپس کی تعداد میں 12 گنا اضافہ ہوا ہے اور سال 2021 میں ان فرضی ایپس کی تعداد بڑھ کر 1100 سے زیادہ ہوگئی تھی۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران ان ایپس کی تعداد مین اضافہ ہوتا چلا گیا اور ان میں غیر قانونی طور پر آپریٹ ہورہے تقریباً 600 ایپس ریزرو بینک بھی تسلیم کرچکا ہے ۔ گوگل پلے اسٹور پر ان کی تعداد مسلسل اور بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ ان ایپس کے ذریعے بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والے اب تک 52 افراد خودکشی کر چکے ہیں اور لاتعداد کو بلیک میل اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ان ایپس کے کام کرنے کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صارفین انہیں پلے اسٹور سے یا میسجز کے ذریعے انسٹال کرتے ہیں۔ پھر ان سے آدھار نمبر، پین نمبر فراہم کرنے کے ساتھ کے وائی سی کے لیے کہا جاتا ہے اور سات دنوں کے اندر ادائیگی کے لیے کہا جاتا ہے ۔ ایسا کرنے میں ناکامی پر ان کو بدنام کرنے اور ان کے رشتہ داروں کو فون کرکے گالیاں دی جاتی ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں پر چھاپے مارتا ہے ، لیکن ان ایپس کے ذریعے ملک کے 500 کروڑ روپے سے زیادہ چین پہنچ چکے ہیں، لیکن حکومت خاموش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ڈیجیٹل انڈیا کی بات کرتی ہے لیکن چین کے ایپس کو کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے ۔