چیوڑلہ میں اس مرتبہ سہ رخی مقابلہ کا امکان

   

64 امیدواروں میں کانگریس کے رنجیت ریڈی، بی جے پی کے ویشویشور ریڈی اور بی آر ایس کے گیانیشور اہم امیدوار

حیدرآباد 28 اپریل (سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ میں اس مرتبہ سہ رخی مقابلہ کا امکان ہے۔ جانچ کے پہلے دن 18 پرچہ جات نامزدگی کے مسترد ہونے کے بعد لوک سبھا انتخابات میں چیوڑلہ میں جملہ 64 امیدوار میدان میں ہیں۔ بشمول اہم امیدوار بی جے پی کے کونڈا ویشویشور ریڈی، کانگریس کے ڈاکٹر رنجیت ریڈی اور بی آر ایس کے کاسانی گیانیشور۔ بی آر ایس نے موجودہ ایم پی رنجیت ریڈی کے انحراف اور کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کے بعد گیانیشور کو چیوڑلہ سے پارٹی کا امیدوار بنایا ہے اور انھیں اس حلقہ میں بی جے پی اور کانگریس سے سخت مقابلہ کا سامنا ہوگا۔ ویشویشور ریڈی بی جے پی کے ٹکٹ پر جبکہ رنجیت ریڈی کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے ہیں۔ ورنگل سے تعلق رکھنے والے رنجیت ریڈی ایک بزنسمین ہیں اور اگریکلچر یونیورسٹی راجندر نگر حیدرآباد سے ویٹرنری سائنس میں ماسٹرس ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ 2019 ء میں سیاست میں داخل ہوئے اور بی آر ایس سے ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ چیوڑلہ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی شکست کے بعد انھوں نے بی آر ایس کو خیرباد کرتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور دوسری مرتبہ کانگریس کے ٹکٹ پر چیوڑلہ سے مقابلہ کررہے ہیں۔ اسی طرح بی جے پی نے سابق ایم پی کونڈا ویشویشور ریڈی کو اس مرتبہ چیوڑلہ سے پارٹی کا امیدوار بنایا ہے وہ 2014 ء میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر چیوڑلہ سے کامیاب ہوئے تھے لیکن 2019 ء کے انتخابات میں انہیں رنجیت ریڈی کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔ پارلیمان چیوڑلہ سات اسمبلی حلقہ جات پر مشتمل ہے جس میں مہیشورم، راجندر نگر، سیری لنگم پلی، چیوڑلہ، وقارآباد، پرگی اور تانڈور شامل ہیں اور یہ حیدرآباد کے بعد تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والے علاقے سمجھے جاتے ہیں۔