بغیر چپس کے اسمارٹ کارڈس کی اجرائی ، 13 سال قبل متعارف کردہ باوقار اسکیم ختم
حیدرآباد ۔ 19 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : محکمہ ٹرانسپورٹ میں اسمارٹ خدمات ختم ہوگئی ہے ۔ 13 سال قبل باوقار طور پر متعارف کردہ ڈرائیونگ لائسنس ، آر سی اور دیگر دستاویزات سے متعلق اسمارٹ کارڈس اب اسمارٹ ’ لیس ‘ میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ ان اسمارٹ کارڈس میں استعمال کئے جانے والے چپس کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ گاڑی چلانے والوں سے متعلق تفصیلات پر مشتمل ڈرائیونگ لائسنس ، آر سی وغیرہ بغیر چپس کے پرنٹ کر کے دئیے جارہے ہیں ۔ تائیوان ، چین کے علاوہ دیگر ممالک سے چپس درآمد نہ ہونے کی وجہ سے چند عرصہ سے اسمارٹ کارڈس کی اجرائی کو روک دیا گیا تھا ۔ اس کے بعد بغیر چپس کے کارڈس جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے استعمال کے بغیر گاڑیاں چلانے والوں کو ’ چپ لیس ‘ کارڈس کی اجرائی عمل میں لائی جارہی ہے ۔ چپس کی قلت سے محکمہ ٹرانسپورٹ بہت زیادہ پریشان ہیں جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے مختلف خدمات کو شفاف بنانے کے لیے 2009 میں تین درجے نظام کو متعارف کرایا تھا ۔ تاہم ٹکنالوجی کی ترقی نے کئی کام آسان کردئیے ہیں ۔ خیریت آباد میں واقع ٹرانسپورٹ کمشنر کے ہیڈ آفس سے تمام خدمات نچلے سطح کے آفس تک پہونچانے کے تمام اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ڈرائیونگ لائسنس ، آر سی ، گاڑیوں کے منتقلی کے دستاویزات وغیرہ کو چھوٹے سائیز کے اسمارٹ کارڈ کی شکل میں لائے گئے ۔ اگرچہ کہ یہ گاڑی چلانے والوں پر مالی بوجھ ہے لیکن بھاری تعداد میں کاغذات ساتھ رکھنے کی ضرورت سے راحت فراہم کرتے ہیں ۔ دوسری جانب اسمارٹ کارڈس میں چپس متعارف کرادی گئی جس میں گاڑی چلانے والوں کی مکمل تفصیلات درج کی گئی ہیں اس سے آر ٹی اے کی خدمات بغیر کسی جعلی دستاویزات کے زیادہ معیاری اور شفاف ہوگئی اور اس معاملے میں مکمل سیکوریٹی حاصل ہوگئی چپس کو اس وقت متعارف کرایا گیا تھا جب ملک کی کسی بھی ریاست میں ایسی اسمارٹ خدمات دستیاب نہیں تھی ۔۔ ن