l ’گروک‘ کے حساس فوجی اور سیاسی فیصلوں پر اثرات کی جانچ پڑتال کی ضرورت l ڈیموکریٹک کانگریس کے دو ارکان جیمی راسکن اور رابرٹ گارسیا کا وائیٹ ہاؤس کو مکتوب
واشنگٹن ۔ 30 اکٹوبر (ایجنسیز) امریکی کانگریس کے دو ڈیموکریٹک ارکان نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرٹیفیشل انٹلیجنس (مصنوعی ذہانت) پر مبنی چیٹ بوٹس کے ساتھ کی جانے والی تمام سرکاری مراسلات اور گفتگو کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ دونوں ارکان نے ایلون مسک کے سافٹ ویئر گروک کے حساس فوجی اور سیاسی فیصلوں پر اثرات کی جانچ پڑتال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شفافیت اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ان معاملات کو فیڈرل پریذیڈنشل ریکارڈز ایکٹ کے تابع کرنے پر بھی زور دیا۔اے ایف پی کے مطابق کانگریس کے ارکان جیمی راسکن اور رابرٹ گارسیا نے وائٹ ہاؤس کو بھیجے گئے ایک خط میں سکیورٹی ضمانتوں اور حساس گفتگو تک بیرونی فریقوں کی رسائی روکنے کے میکانزم پر بحث کیلئے آنے والی 11 نومبر تک ایک بند کمرہ بریفنگ کے انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ خانگی اداروں کے تیار کردہ چیٹ بوٹس کی طرف سے ملنے والے سیاسی مشوروں پر انحصار قومی فیصلوں کی سلامتی اور درستی کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔خط میں اے آئی کے ایسے ماڈلز سے سیاسی جائزے حاصل کرنے کے خطرات سے واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے جو تکنیکی غلطیوں یا نظریاتی تعصبات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن کے مطابق ٹرمپ نے اہم فوجی اقدامات پر بین الاقوامی ردعمل کا پتہ لگانے کیلئے سرکاری اجلاسوں کے دوران گروک پروگرام کا استعمال کرتے ہوئے گھنٹوں وقت گزارا جس سے ڈیٹا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا سطحی نوعیت کے مشورے فراہم کرنے کے امکانات کا دروازہ کھلتا ہے جو امریکہ کی سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ قانون سازوں نے گزشتہ رپورٹس کا حوالہ دیا جو عسکری اہداف کے تعین میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کے نتیجے میں ہونے والی انٹلیجنس غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ قانون سازوں نے مختلف پروگرامنگ ایپلی کیشنز جیسا کہ چیٹ جی پی ٹی، کلاوڈ اور جیمنائی میں انتہائی حساس اور خفیہ معلومات کے داخلے کو روکنے کیلئے لاگو پابندیوں کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران ایک امریکی انتظامی اہلکار نے رائج قانون کے تحت محفوظ رکھے جانے والے تمام قانونی ریکارڈز کی مکمل پاسداری کے وائٹ ہاؤس کے عزم کی تصدیق کی ہے۔یہ مطالبات قومی سلامتی کی قانون سازی اور فیڈرل پریذیڈنشل ریکارڈز ایکٹ کے روشنی میں سامنے آئے ہیں جو وائٹ ہاؤس کو انتظامیہ کی تمام دستاویزات اور سرکاری معاملات کو محفوظ رکھنے اور آرکائیو کرنے کا پابند بناتے ہیں تاکہ ریاست کے انتظام اور خارجہ پالیسی سے متعلق حساس فیصلوں کے شواہد کو ضائع ہونے سے روکا جا سکے۔