زندگی بھی تو پریشاں ہے یہاں لاکے مجھے
ڈھونڈھتی ہے کوئی حیلہ مرے مرجانے کا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے متضاد بیانات کی وجہ سے حالیہ عرصہ میں سرخیوں میں رہنے لگے ہیں۔ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ ان کے متضاد بیانات خود امریکہ کیلئے الجھن کا باعث بننے لگے ہیں تاہم ٹرمپ کے متضاد بیانیہ کا سلسلہ جاری ہے ۔ وہ کبھی ایران کو جنگ بندی کیلئے مزید مہلت نہ دینے کا انتباہ جاری کرتے ہیں تو پھر لمحہ آخر میں یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان بھی کردیتے ہیں۔ وہ کبھی آبنائے ہرمز پر بم برسانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کی حفاظت کا دعوی کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ عرصہ میں اپنے بیانیہ اور اظہار خیال میں ہندوستان کو نشانہ بنانے لگے ہیں ۔ وہ ہندوستان کے مقابلہ میں پاکستان کی مدح سرائی زیادہ کر رہے ہیں اور ہندوستان کے شدید اور مسلسل اعتراضات کے باوجود ہند ۔ پاک جنگ رکوانے کا دعوی کر رہے ہیں۔ کبھی ہندوستان سے دوستی کی دہائی بھی دیتے نظر آتے ہیں تو کبھی ہندوستان پر شرحیں بھی عائد کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ ٹرمپ ویسے تو کئی معاملات میں تضاد بیانی کر رہے ہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں تو کبھی کچھ اور ہی ان کا موقف ہوتا ہے ۔ ہندوستان کے تعلق سے بھی ٹرمپ کا یہی کچھ رویہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے آج ہی ہندوستان کے تعلق سے دو الگ الگ بیانات دئے ہیں۔ پہلے بیان میں انہوں نے ہندوستان اور چین کو ملاتے ہوئے تنقیدی موقف اختیار کیا تھا ۔ امریکہ میں حق پیدائش کے مسئلہ پر انہوں نے ہندوستان اور چین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ پھر انہوں نے دوسرا بیان جاری کرتے ہوئے ہندوستان کو ایک عظیم ملک قرار دیا اور کہا کہ اس ملک کے سربراہ حکومت ان کے ایک بہترین دوست ہیں۔ ٹرمپ کا حوالہ وزیر اعظم نریندرمودی کی سمت تھا ۔ جہاںتک ہندوستان کا سوال ہے تو ہم نے ہمیشہ ہی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دی ہے اور اس کے ساتھ دوستی کو برقرار رکھنے کے اشارے دئے تھے ۔ اس کے باوجود ٹرمپ ہندوستان کے تعلق سے منفی سوچ ہی ظاہر کرتے رہے ہیں ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس میں ہندوستان کو سخت گیر موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
جہاںتک ہمارے ملک ہندوستان کا سوال ہے تو ہم ڈونالڈ ٹرمپ یا کسی اور کی تعریف یا ستائش کے محتاج نہیں ہے ۔ ہندوستان ایک عظیم اور بڑا ملک ہے ۔ دنیا بھر میں اس کی اپنی اہمیت ہے ۔ ہندوستان نے کئی اہم امور میں اپنی انفرادیت بھی برقرار رکھی ہے اور ایک سے زائد مواقع پر اپنے اقدامات سے عالمی فورمس میںتعریف و توصیف حاصل کی ہے ۔ دنیا کے کئی ممالک ہندوستان سے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔ امریکہ نے بھی ہندوستان سے تعلقات کو اہمیت دی ہے ۔ ہندوستان سے تعلقات بالکل مساویانہ بنیادوں پر رہے ہیں اور ہندوستان کو کسی سے پیچھے رہنے یا دبنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ آج دنیا کے کئی بڑے ادارے ایسے ہیں جس کے سربراہ ہندوستانی نژاد شہری ہی ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ ہوں یا پھر کوئی اور بھی کیوں نہ ہوں انہیں ہندوستان کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ ہندوستان کے تعلق سے منفی یا تنقیدی اظہار خیال کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی اس کو برداشت کیا جانا چاہئے ۔ ہندوستان نے جو کچھ بھی ترقی کی ہے اپنے بل پر حاصل کی ہے اور یہ کسی اور ملک کے احسان کا نتیجہ نہیں ہے ۔ ہندوستانی باشندوں نے کئی شعبہ جات میںاپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ہے ۔ ہندوستان اپنی ہی جدوجہد کے نتیجہ میں ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور ساری دنیا اس کا احترام کرنے لگی ہے اور ہندوستان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ کو ہندوستان کے تعلق سے منفی تبصرے کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ چاہے جس کسی ملک کے ساتھ تعلقات ہوں یہ سب کچھ مساویانہ بنیادوں پر ہونے چاہئیں اور کسی کو بھی اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش نہیںکی جانی چاہئے ۔ حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ مخالف ہند بیانات کا مسئلہ راست ٹرمپ سے رجوع کریں اور ان سے اپنے احتجاج کو درج کروایا جائے ۔ یہ پیام ساری دنیا کو دینا ضروری ہے کہ ہندوستان اس کے خلاف ہونے والی غیر ضروری اور بے بنیاد تنقیدوں اور منفی تبصروںکو خاموشی سے برداشت نہیں کرے گا اور اس کا جواب دینے اور وضاحت طلب کرنے کا حق ضرور رکھتا ہے ۔