ڈی ایم آئی ٹی بچوں کے مستقبل کی راہ ہموار کرنے والا ٹسٹ

   

نئی نسل کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والی سائنس کا استعمال وقت کی اہم ضرورت

(دوسری قسط )
حیدرآباد۔ یکم فروری (سیاست نیوز) معاشرہ میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ یا سرپرست حضرات اپنی اولاد کو ایسے کورسیس کرنے پر مجبور کردیتے ہیں جن سے اولاد کو کوئی دلچسپی نہیں رہتی، نتیجہ میں وہ اپنی زندگیوں میں زیادہ کامیاب نہیں ہوتے اور زندگی بھر انہیں ایک قسم کا پچھتاوا رہتا ہے کہ ہم نے وہ نہیں کیا جو ہماری پسند تھی جس میں ہماری دلچسپی تھی۔ جہاں تک بچوں کا سوال ہے، قدرت نے ہر بچہ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ان میں ایسی مخفی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں کہ اگر ان صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے تو ان بچوں کا شمار آگے چل کر غیرمعمولی اور کامیاب انسانوں میں ہونے لگتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کیسے اپنے بچوں کی خداداد صلاحیتوں کا پتہ چلا سکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ آج سائنس و ٹیکنالوجی نے اس قدر زیادہ ترقی کرلی ہے کہ مشینیں ترجمہ کرنے لگی ہیں۔ روبوٹس آپریشن تھیٹرس میں مریضوں کے نازک سے نازک آپریشنس کرنے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں چاہے وہ تعلیمی، طبی (صحت عامہ)، زرعی، تجارتی، سلامتی و صیانتی شعبہ کیوں نہ ہو، ان میں روبوٹس اور ڈرونس کا اثر مسلسل بڑھتا جارہا ہے اور یہ سب مصنوعی ذہانت Artificial Intelligence (AI) کا کمال ہے اور انسان کی جہد مسلسل اور کچھ کرنے کے جوش و جذبہ اور عزم و حوصلوں کے نتیجہ میں قدرت نے انسان کو یہ سکھایا۔ AI نے زندگی کے ہر شعبہ میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے اور اس بات کا خوف ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر انسان اپنی خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس سے کام نہ لیں تو پھر AI کے ذریعہ مشینس، روبوٹس اور ڈرونس کی شکل میں ان پر حاوی ہوجائیں گے، ایسے میں طلباء و طالبات کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کیلئے آج کل DMIT (Dermatoglyphics Multiple Intelligence Test) کا استعمال کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے DMIT کی اہمیت و افادیت سے متعلق اپنی پہلی رپورٹ میں آپ کو بتایا تھا کہ طلباء و طالبات کی اُنگلیوں کے نشانات کی مدد سے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ طلباء و طالبات کیلئے کونسا کورس ، کونسا شعبہ موزوں ہے۔ آپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ روزنامہ سیاست نے نونہالان ملت میں پائی جانے والی خدا دادصلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور بہترین کیریئرکے انتخاب میں ان کی مدد کی خاطر دفتر روزنامہ سیاست میں DMIT ٹسٹ کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے جس کی تواریخ کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ اس سے پہلے طلبہ اور اولیائے طلبہ کو DMIT سے واقف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ٹسٹ (DMIT) بچوں کے دماغ اور ان کی انگلیوں کے نشانات کے درمیان پائے جانے والے اہم ترین تعلق کو اجاگر کرنے والی ایک سائنس ہے، ایک ایسی سائنس جو یقینا آپ اور آپ کے بچوں کی زندگیوں میں ایک صحت مند انقلاب برپا کرے گی۔ ہم آپ کو سمجھانے کیلئے سب سے پہلے DMIT کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ سب سے پہلے Dermeto Glyphic حصہ اور دوسرا Multiple Intellegence ان دونوں پر روشنی ڈالنے یا اجاگر کرنے کیلئے جو ٹسٹ ہوتا ہے، اسے ہم DMIT کہتے ہیں۔ سطور بالا میں جو دو لفظ ہیں Derma اور Glyphic جس کے معنی بالترتیب جلد (Skin) اور دماغ (Brain) ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہمارے فنگر پرنٹ بالکل منفرد ہوتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔ صورت و شکل ایک جیسی بھی ہوتی ہے لیکن ایک فرد کے فنگر پرنٹ دوسرے فرد سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنی پہلی رپورٹ میں بتایا تھا کہ دنیا کی آبادی 800 کروڑ (8 ارب سے تجاوز کرگئی ہے، ان میں سے کسی کے بھی فنگر پرنٹس ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے) اس کا مطلب یہ ہوا کہ انگلیوں کے نشانات آپ اور آپ کے بچوں کی خصوصی شناخت کو ظاہر کرتے ہیں چنانچہ اس خصوصیت اور انفرادیت پر جب تحقیق ہوئی تب سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ہمارے جو انگلیوں کے نشانات ہیں اور ہمارا جو دماغ ہے، اس کے درمیان گہرا تعلق ہے اور ان کو اجاگر کرنے والا جو ٹسٹ ہے وہ DMIT ہے۔ سائنس دانوں نے تحقیق میں پایا کہ انگلیوں کے نشانات اور دماغ کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے اس بات کا بھی پتہ چلانے کی کوشش کی کہ آخر وہ تعلق کیوں پایا جاتا ہے جس پر سائنس داں کو پتہ چلا کہ جب بچہ شکم مادر (ماں کے پیٹ) میں ہوتا ہے تو حمل کے 13 سے لے کر 21 ویں ہفتہ کے درمیان دماغ تیار ہوتا ہے۔ اسی دوران انگلیوں کے نشان فروغ پاتے ہیں اور یہ دونوں تبدیلیاں یا ڈیولپمنٹ ساتھ میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے، اگلی قسط میں پڑھئے۔
(سلسلہ جاری ہے)
اوما پرساد اگروال
9063076769, 9052403132