کابینہ میں مسلم وزیر نہیں، اقلیتی طلبہ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی سے محروم

   

تلنگانہ محبت کی دوکان کے بجائے نفرت کے مکان میں تبدیل، انتخابی وعدے فراموش، ریاستی بجٹ پر اسمبلی میں ہریش راؤ کی تقریر
حیدرآباد 21 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج ریاستی بجٹ پر مباحث کا آغاز ہوا۔ بی آر ایس کے رکن اور سابق وزیر ہریش راؤ نے بجٹ پر گزشتہ 10 برسوں کے دوران بی آر ایس حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا کھیل ہے اور حقائق سے بعید ہے۔ ہریش راؤ نے اقلیتوں اور کمزور طبقات کی ترقی کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ کانگریس حکومت نے انتخابات کے موقع پر عوام سے جو وعدے کئے تھے اُن کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ہریش راؤ نے اقلیتوں کو نظرانداز کرنے کی شکایت کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی کابینہ میں اقلیتی وزیر کو شامل نہیں کیا گیا جو تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ہے۔ گزشتہ سال اقلیتی بہبود کے لئے 3 ہزار کروڑ مختص کئے گئے تھے لیکن ایک سال میں ایک ہزار کروڑ بھی جاری نہیں کئے گئے۔ اقلیتی طلبہ کے لئے اوورسیز اسکالرشپ اسکیم اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے فنڈس جاری نہیں کئے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں طلبہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ اُنھوں نے حکومت سے سوال کیاکہ غریب لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امدادی رقم کے ساتھ ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ ہریش راؤ نے کہاکہ اقلیتی طبقہ کی غریب لڑکیوں کی شادی کے لئے امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم کے چیک جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ بی آر ایس دور حکومت میں رمضان المبارک کے موقع پر غریب خاندانوں کو ملبوسات پر مشتمل ’’رمضان تحفہ‘‘ دیا جاتا رہا جسے کانگریس حکومت نے ختم کردیا ہے۔ بی آر ایس دور حکومت میں 203 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے گئے تھے لیکن کانگریس حکومت اِن اسکولوں کو انٹیگریٹیڈ اسکولوں میں ضم کررہی ہے۔ ہریش راؤ نے ریمارک کیاکہ کانگریس کو اقلیتوں کے ووٹ چاہئے لیکن اُن کی بھلائی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت مفت علاج کی حد کو پانچ لاکھ روپئے سے بڑھاکر 10 لاکھ کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن گزشتہ 15 ماہ میں محض 200 افراد کا مفت علاج 5 لاکھ روپئے سے زائد کا ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آروگیہ شری کے بقایہ جات کی اجرائی سے غریبوں کے علاج میں دشواری پیش آرہی ہے۔ ہریش راؤ نے کہاکہ کانگریس قائد راہول گاندھی نے ملک بھر میں محبت کی دوکان کھولنے کا نعرہ لگایا اور یہ نعرہ قابل ستائش بھی ہے لیکن تلنگانہ میں کانگریس حکومت نے ریاست کو نفرت کے مکان میں تبدیل کردیا ہے۔ ریاست میں ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے اور حکومت کے خلاف آواز اُٹھانے پر پولیس کے ذریعہ مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ ہریش راؤ نے تقریباً دو گھنٹے تک بجٹ پر اپنی تقریر میں حکومت کے وعدوں اور اہم شعبہ جات میں بجٹ کو نظرانداز کرنے کا حوالہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کسانوں کے قرض معافی کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا اور خواتین کو بلا سودی قرض کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ہریش راؤ نے کہاکہ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کے تحت ریاست میں 4 لاکھ 50 ہزار مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا گیا جس کے تحت ہر اسمبلی حلقہ میں 3 ہزار 500 مکانات منظور کئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 16 ماہ میں کانگریس حکومت نے ریاست بھر میں 4 مکان بھی تعمیر نہیں کئے۔ ہریش راؤ نے انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل کی تفصیلی فہرست پیش کی اور کہاکہ جاب کیلنڈر جاری کیا گیا لیکن اُس پر عمل آوری نہیں ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں بیروزگار نوجوان پریشان ہیں۔ ہریش راؤ نے خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے وظیفہ، اولڈ ایج پنشن کی رقم کو ماہانہ 4000 کرنے جیسے وعدوں پر عمل آوری کے بارے میں سوال کیا۔ ریاستی بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے ہریش راؤ نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کو ترجیح دے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کی فوری اجرائی کا مطالبہ کرکے ہریش راؤ نے کہاکہ گزشتہ 15 ماہ میں ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ 1