بھگوڑوں کو اہمیت، غریبوں پر ستم امیروں پر رحم، قرض معافی کی تفصیلات راجیہ سبھا میں پیش
حیدرآباد۔ 3 اگست (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی معاشی پالیسی غریبوں پر ستم اور امیروں پر رحم کے مترادف ہے۔ عام لوگوں کے قرض حاصل کرنے پر بینکوں کی جانب سے قرضوں کی وصولی کے لئے بڑے پیمانے پر ہراسانیاں کی جاتی ہیں۔ جائیدادوں کو ضبط کرلیا جاتا ہے یا ان کے خلاف دھوکہ دہی کے مقدمات درج کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، مگر کارپوریٹ قرض کو معاف کیا جارہا ہے۔ گزشتہ 5 سال کے دوران 10 لاکھ کروڑ روپے کا کارپوریٹ قرض معاف کیا گیا ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر فینانس بھگوت کے کیدار نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ 2017-18 تا 2021-22 تک 9,91,640 کروڑ روپے کے بینکنگ قرضوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔ ان پانچ سال کے دوران سب سے زیادہ مالیاتی سال 2018-19 میں قرض معاف کئے گئے۔ اس سال بینکوں نے 2,36,265 کروڑ روپے کے قرضوں کو معاف کیا ہے۔ انہوں نے ٹاپ 25 ڈیفالٹرس کی تفصیلات بھی پیش کیں جن میں ملک سے راہ فرار اختیار کرنے والے ہیروں کے تاجر اور پنجاب نیشنل بینک اسکام کے ماسٹر مائنڈس میں سے ایک میہول چوکسی کی گیتانجلی جیمز لمیٹیڈ سرفہرست ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر فینانس کے اس تحریری بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ صرف بھگوڑوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔ بینکوں کو دھوکہ دینے والوں کے قرضوں کو معاف کیا جارہا ہے اور غریب لوگوں کو ستایا اور پریشان کیا جارہا ہے۔ پہلے تو غریب لوگوں کو بینکوں سے چھوٹے موٹے قرضوں کے حصول کے لئے کئی کٹھن مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے پھر ان سے ایک ایک روپیہ وصول کرنے تک انہیں بخشا نہیں جاتا۔ زیادہ سے زیادہ سود وصول کرتے ہوئے انہیں نچوڑ لیا جاتا ہے جبکہ کارپوریٹ اداروں کو نہ صرف بڑے قرض جاری کئے جارہے ہیں اور ان سے سود سمیت قرض وصول کرنے کے بجائے ان کے قرضوں کو معاف بھی کردیا جارہا ہے۔ ن