کالیشورم پراجکٹ میں لاکھوں کروڑوں کی دھاندلیوں کی جامع تحقیقات کروانے کا اعلان

   

میدی گڈہ پراجکٹ کی خامیوں کا جائزہ ، وزارتی وفد کا دورہ ، عہدیداروں کے ساتھ اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب
حیدرآباد۔29۔ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاستی وزراء کے وفد نے میدی گڈہ بیاریج کا دورہ کرتے ہوئے عہدیداروں کی جانب سے پیش کردہ پاؤر پوائنٹ پرزینٹیشن کا مشاہدہ کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد ہی کالیشورم پراجکٹ کی برسرخدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائیں گی۔ ریاستی وزراء کیپٹن این ۔اتم کمار ریڈی ‘ مسٹر ڈی سریدھر بابو‘ مسٹر پی سرینواس ریڈی‘ مسٹر پونم پربھاکر نے میدی گڈہ بیاریج کے علاوہ سندیلا اور انارم پراجکٹ کا مشاہدہ کرنے کے بعد عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے صورتحال سے آگہی حاصل کی اور پراجکٹ کی تمام تفصیلات سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کالیشورم پراجکٹ میں ہوئی لاکھوں کروڑکی دھاندلیوں کی جامع تحقیقات کروائی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس حکومت کالیشورم پر چیوڑلہ ۔پرانہیتا پراجکٹ کو ترجیح دے گی تاکہ 16 لاکھ ایکڑاراضی کو سیر آب کیا جاسکے ۔ انہو ںنے بتایا کہ اس پراجکٹ کی تخمینی لاگت محض 38 ہزار کروڑ ہے جس کی تکمیل سے ریاست کے زرعی شعبہ کو کافی فائدہ پہنچے گا۔ سابقہ حکومت نے میدی گڈہ پراجکٹ میں موجود خامیوں کا جائزہ نہیں لیا جبکہ اس پراجکٹ کے پلرس 5 فٹ تک زمین میں دھنس چکے ہیں اور حکومت نے اسے نظرانداز کیا جبکہ اس پراجکٹ پر حکومت کی جانب سے 80 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انارم بیاریج کو بھی نقصان پہنچا ہے اور لاکھوں کروڑ روپئے خرچ کرنے کے بعد تعمیر کئے گئے ان پراجکٹس کو ہونے والے نقصانات پر سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی ان معاملات کی تحقیقات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تاحال اس پراجکٹ پر 95 ہزار کروڑ خرچ کئے جاچکے ہیں اور زائد از 55ہزار کروڑ ادا شدنی ہیں۔مسٹر ڈی سریدھر بابو نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ حکومت کسی سے کوئی ذاتی دشمنی یا مخاصمت کے ساتھ کام نہیں کرے گی بلکہ پراجکٹ کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کاروائی کی جائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ کالیشورم پراجکٹ کے تحت 3بیاریجس میدی گڈہ‘ انارم ‘ اور سندیلا کی موجودگی کے باوجود آبپاشی اور پینے کے پانی کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ انہوں نے اجلاس کے دوران عہدیداروں سے استفسار کیا کہ اس پراجکٹ کے سبب گوداوری کا کتنا پانی ضائع ہورہا ہے! ان کے اس استفسار پر عہدیداروں نے پراجکٹ کی تفصیلات سے واقف کروایا جس پر انہوں نے کہا کہ عہدیداروں کی جانب سے جو تفصیلات پیش کی جا رہی ہیں ان پر اعتبار کیا جائے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ میں پیدا ہونے والی برقی کا 90 فیصد حصہ لفٹ ایریگیشن کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ انہوں نے عہدیداروں سے استفسار کیا کہ اس پراجکٹ کی تعمیر کے سلسلہ میں اقدامات کے دوران زلزلہ کی صورت میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لئے جانے کے متعلق تفصیلات طلب کی۔کیپٹن اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ ریاستی حکومت پلمور ۔رنگاریڈی پراجکٹ کو قومی درجہ دلانے کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اس پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ فراہم کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ کالیشورم پراجکٹ میں پائی جانے والی خامیوں کے سلسلہ میں معلومات حاصل ہونے کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ۔کالیشورم پراجکٹ میدی گڈہ بیاریج کے اس دورہ میں ریاستی وزراء کے ہمراہ رکن اسمبلی ویویک اور مسٹر جیون ریڈی رکن قانون ساز کونسل کے علاوہ عہدیدار موجود تھے۔مسٹر پی سرینواس ریڈی نے اس موقع پر کہا کہ ریاستی حکومت نے تعمیری قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پراجکٹ کی تعمیر کو مکمل کرتے ہوئے نہ صرف پراجکٹ بلکہ سرکاری خزانہ کو نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کے تمام امور اور اس سے زرعی شعبہ کو فائدہ کے دعوؤں کے علاوہ دیگر ادعا جات کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ریاستی وزراء نے میدی گڈہ کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد عہدیداروں کی جانب سے پیش کئے گئے پاؤر پوائنٹ پریزینٹیشن میں دکھائی جانے والی تفصیلات پر متعدد استفسار کئے اور عہدیدارو ںکو تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کے لئے تیار کرنے کی ہدایت دی۔ وزراء نے بتایا کہ ان کے دورہ کے دوران ہونے والے انکشافات اور دیگر تفصیلات پر مشتمل رپورٹ وہ جلد ہی حکومت کو پیش کریں گے اور حکومت کے اس کے بعد ہی کالیشور م پراجکٹ کی برسرخدمت جج سے تحقیقات کا اعلان کرے گی۔3