بانسواڑہ۔ 28 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کاماریڈی ضلع پولیس نے جعلی کرنسی کی خرید و فروخت اور چلن میں ملوث بین ریاستی گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ان کے قبضہ سے 500 روپے کے 182 جعلی نوٹ جن کی مالیت 91 ہزار روپے ہے، ایک شفٹ ڈیزر کار، اور 3 موبائل فون برآمد کرلییضلع ایس پی کی ہدایت پر یہ کارروائی عمل میں آئی جس کی تفصیلات بانسواڑہ ڈی ایس پی نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتائیںڈی ایس پی نے بتایا کہ مہاراشٹر ضلع پربھنی کا ساکن راہل راؤ صاحب آواڈ، عمر 23 سال کو ایک نامعلوم شخص کے ذریعہ معلوم ہوا تھا کہ حیدرآباد کے مدثر حسین عرف شاہ بابا، کے پاس جعلی کرنسی دستیاب ہے۔ ملزم کو بتایا گیا کہ ایک لاکھ روپے اصلی نوٹ کے بدلے دو لاکھ روپے کے جعلی نوٹ دیے جائیں گیاس لالچ میں آکر راہل نے اپنے دو ساتھیوں پرتیک ،اور بھیم شنکر کے ساتھ مل کر رقم جمع کی اور حیدرآباد جا کر مدثر حسین ،سے جعلی کرنسی حاصل کی۔ واپسی کے دوران پٹلم ہائی وے کے قریب ایک پیٹرول پمپ پر انہوں نے چار جعلی نوٹ چلائے۔ بعد ازاں مزید نوٹ چلانے کی غرض سے دوبارہ حیدرآباد جاتے ہوئے دھرمارم ٹول پلازہ کے قریب پٹلم پولیس نے انہیں پکڑ لیاپولیس نے مقدمہ درج کرکے جعلی نوٹ فراہم کرنے والے مدثر حسین عرف شاہ بابا اور اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی تلاش شروع کردی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر دوگنی رقم کا لالچ دینے والوں کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ جعلی کرنسی رکھنا اور چلانا سنگین جرم ہے۔ملزمان کی گرفتاری میں بہترین کارکردگی پر ضلع ایس پی نے پٹلم ایس آئی آنجنیلو، بانسواڑہ رورل سرکل انسپکٹر تیروپیا ،اور کانسٹبلس شلیش، رامو اور وینکٹیش کی ستائش کی۔