بی آر ایس دور حکومت میں جیل بھیجا گیا اور دختر کی شادی سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی : ریونت ریڈی
حیدرآباد۔27۔مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد اگر گروپ بندی اور بدلہ کی سیاست کو فروغ دیتی تو ایسی صورت میں کے سی آر کے خاندان کا کوئی فرد باہر نہیں ہوتا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج تصرف بل پر جاری مباحث میں حصہ لینے کے دوران کہا کہ اگر وہ کے سی آر کی طرح ہوتے تو جیل میں گذاری گئیں 16 راتوں کا حساب لینے کے لئے ان کے خاندان کے تمام افراد کو جیل میں ڈال دیتے ۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں جاری مباحث کے دوران بھارت راشٹراسمیتی قائد کے ٹی راماراؤ کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے چیرلہ پلی جیل میں گذارے اپنے دنوں کو یاد کیا ۔ انہو ںنے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں انہیں محض ڈرون کیمرے کے استعمال کے لئے گرفتار کرتے ہوئے 16 یوم جیل میں بند رکھا گیا اور انہیں ان کی دختر کی شادی کی تقریب سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ۔ مسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ چیرلہ پلی جیل میں گذارے جانے والے 16 یوم کبھی فراموش نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں جیل میں رات کے وقت سونے تک نہیں دیا گیا جس کے نتیجہ میں وہ دن میں درخت کے سائے میں نیند پوری کیا کرتے تھے ۔ انہوں نے ایوان اسمبلی میں مباحث کے دوران کہا کہ انہیں جیل میں آئی ایس آئی ایس ‘ نکسلائٹس‘عمر قید کے قیدیوں کے سیل میں رکھا گیا تھا اور اس سیل میں چھپکلیوں کی بھرمار تھی اس کے علاوہ رات کے اوقات میں بھی سیل کی لائٹ کو کھلا رکھا جاتا اور بند کرنے کی خواہش پر کہا جاتا تھا کہ اوپر سے احکام ہیں کہ لائٹ جلتی رہنی چاہئے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ 500 روپئے کا جرمانہ ادا نہ کرنے پر انہیں جیل بھیجنے والے آج سیاسی اصولوں کی بات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کے سی آر اور کے ٹی آر کی طرح ہوتے تو ان کے کسی بھی فرد خاندان کو باہر نہیں رکھتے اس بات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تلنگانہ میں گروہ واریت اور بدلہ کی سیاست کو کون فروغ دے رہا ہے !چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں گذشتہ 10 برسوں کے دوران گروہ واری سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی لیکن تلنگانہ میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد جمہوریت کو بحال کرنے کے اقدامات کئے اور بدلہ کی سیاست کو فروغ دینے کے بجائے سب کے ساتھ ملکر کام کرنے کے ماحول کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں ریاست کی کانگریس حکومت بڑی حد تک کامیاب بھی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں بدلہ کی سیاست کو فروغ کس نے دیا ہے یہ تلنگانہ عوام دیکھ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر ریاست میں گروہ واریت اور انتقامی سیاست کو فروغ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔3