کانگو میں جاری تنازعہ سے ہزاروں اسکول متاثر

   

کنشاسا: ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) کے مشرقی حصہ میں جاری تنازعہ سے 2500 سے زیادہ اسکول متاثر ہوئے ہیں۔قومی تعلیم کے انچارج ریاستی وزیر رئیسہ مالو نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ شمالی کیوو اور جنوبی کیوو صوبوں میں 2500 سے زیادہ اسکول تنازعہ کے دوران تباہ ہوگئے ہیں یا ان پر قبضہ کر لیا گیا ہے ۔ جھڑپوں سے 10 لاکھ سے زائد طلباء بھی متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک اسکول کیلئے بہت دکھ ہوا، جسے قبرستان کے طور پر استعمال کیا گیا اور کئی اسکولوں کی بلیک بورڈ، بینچیں اور بیت الخلاء کے دروازے تباہ کر دیے گئے ۔ ان کا استعمال ایندھن کے طور پر کیا گیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایم23 باغیوں اور ڈی آر سی حکومت کے درمیان تنازعے نے بڑے پیمانے پر بے دخلی اور انسانی بحران کو بڑھا دیا ہے اور دشمنی کو ختم کرنے کیلئے سفارتی اور فوجی کوششوں کے باوجود صورتحال انتہائی کشیدہ ہے ۔ ایم23 نے مشرقی ڈی آر سی کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اس گروپ نے فروری کے وسط میں شمالی کیوو میں ایک متوازی انتظامیہ قائم کرنے کے بعد جمعہ کو جنوبی کیوو کیلئے ایک گورنر مقرر کیا۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزین کمیشن نے کہا کہ پچھلے چار ہفتوں میں 414,000 کانگو کے رہائشی شمالی اور جنوبی کیوو صوبوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔