کثرت میں وحدت کا وعدہ کسی شاہ یا سلطان کو نہیں توڑنا چاہئے

   

امیت شاہ کی جانب سے ہندی کو قومی زبان قرار دینے کے بیان پر کمل ہاسن کی شدید مخالفت

چینائی 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) فلم اداکار سے سیاستداں بننے والے کمل ہاسن نے آج امیت شاہ کی جانب سے ہندی کو قومی زبان قرار دیئے جانے کی کوششوں کی شدید ترین مخالفت کی ہے۔ مکل ندھی نیم (ایم این ایم) کے بانی کمل ہاسن نے آج کہاکہ ہندی زبان کو مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کی وہ شدید مخالفت کریں گے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو کئی دہے قبل ملک سے کیا گیا تھا جسے کسی شاہ، سلطان یا سمراٹ کو نہیں توڑنا چاہئے۔ واضح رہے کہ یوم ہندی کے موقع پر وزیرداخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ آج ملک کو اتحاد کی ڈور میں باندھنے کا اگر کوئی زبان کام کرسکتی ہے تو وہ ملک بھر میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہندی ہے۔ آج ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کمل ہاسن نے کہاکہ کثرت میں وحدت کا ایک وعدہ ہے جسے ہم نے اُس وقت کیا تھا جب ہم نے ملک کو جمہوریت بنایا تھا۔ اب اُس وعدے کو کوئی شاہ، سلطان یا سمراٹ نہیں توڑ سکتا ہے۔ ہم سبھی زبانوں کا احترام کرتے ہیں لیکن ہماری مادری زبان ہمیشہ ٹامل رہے گی۔ واضح رہے کہ شاہ، سلطان یا سمراٹ جیسے ریمارکس سے واضح طور پر امیت شاہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ امیت شاہ نے یوم ہندی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کو ایکتا کی ڈور سے باندھے رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی زبان کو قومی زبان بنایا جائے اور اِس کے لئے ملک بھر میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہندی کو ترجیح دینی چاہئے۔ امیت شاہ کے اِس بیان پر ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن اور کرناٹک کے سابق چیف منسٹر اور کانگریس لیڈر سدارامیا کے بشمول کئی اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کمل ہاسن نے اپنے ویڈیو پیام میں مزید کہاکہ ہندوستان مختلف ڈیشس سے سجی ہوئی ایک ایسی تھالی کی طرح ہے جس کا ہم تمام کو ملکر لطف اُٹھانا چاہئے اور کسی ایک ڈش ’’ہندی‘‘ کو مسلط کرنے سے اِس کا ذائقہ بگڑ جائے گا۔ براہ مہربانی ایسا نہ کریں۔ کمل ہاسن نے یہاں 2017 ء کے جلی کٹو کی حمایت میں کئے گئے مظاہرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ صرف ایک مخالفت تھی جبکہ ہماری زبان کی لڑائی اِس سے کہیں زیادہ شدید ہوگی۔ ہاسن نے مزید کہاکہ ہندوستان یا ٹاملناڈو کو اس طرح کی لڑائی کی ضرورت نہیں ہے اور اِسی لئے یہ ہمارا قومی ترانہ بنایا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ متحدہ ہندوستان کو جسے کثرت میں وحدت کا ملک قرار دیا جاتا ہے کو ایک طرح کا ملک بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جانی چاہئے کیوں کہ اِس طرح کے ناعاقبت اندیش اقدام سے ہر کسی کو نقصان ہوگا۔