بھگت سنگھ اور ٹیپو سلطان سے متعلق مضامین حذف ، نصاب پر نظرثانی کیلئے کمیٹی کی تشکیل
حیدرآباد۔23۔ مئی (سیاست نیوز) کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے نصابی کتابوں پر نظرثانی کے ذریعہ سنگھ پریوار کے نظریات کو شامل کرنے کی مساعی شروع کردی ہے۔ بسوا راج بومائی حکومت نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سربراہ کی تقریر کو نصابی کتب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دوسری طرف شہید ٹیپو سلطان سے متعلق مضمون کو نصاب سے علحدہ کردیا گیا۔ تاریخ کی کتابوں پرنظرثانی کے فیصلہ سے ریاست میں ایک نیا تنازعہ پیدا ہوچکا ہے۔ کرناٹک کے ادیب روہت چکراتیرتھا کی قیادت میں نصابی کتابوں پر نظرثانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی پری یونیورسٹی کورسس میں تاریخ سے متعلق نصابی کتب پر نظرثانی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلی تا دسویں جماعت کے سوشیل سائنس کی نصابی کتب میں اہم تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ چھٹویں تا دسویں جماعت کی کتابوں سے سیکولر نظریات کے حامل مصنفین کے مضامین کو حذف کرنے کی تجویز ہے۔ بی جے پی حکومت نے سوشیل سائنس کی نصابی کتب میں نئے مذاہب کے آغاز سے متعلق مضمون پر اعتراض جتایا ہے۔ وزیر تعلیم بی سی نگیش نے اس سلسلہ میں پرنسپل سکریٹری ایجوکیشن کو مکتوب روانہ کیا۔ پری یونیورسٹی کورس کے سوشیل سائنس نصاب میں جین اور بدھ ازم کے آغاز سے متعلق مضمون ہے جس میں جانوروں کی قربانی ، ذات پات کے نظام اور دیگر مسائل کے ساتھ نئے مذہب کے جنم لینے کی بات کہی گئی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اس مضمون پر اعتراض جتایا ہے ۔ وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ اس مضمون کے بارے میں حکومت کو شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ایک مخصوص مذہب کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ نظرثانی کمیٹی پرائمری اور سکنڈری ایجوکیشن کے نصابی کتاب کا جائزہ لے گی۔ تعلیمی سال 2022-23 ء کیلئے ترمیم شدہ نصابی کتب شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے نصابی کتب سے بھگت سنگھ ، سماجی مصلح نارائن گرو اور ٹیپو سلطان سے متعلق مضامین کو حذف کرنے کے فیصلہ پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے آر ایس ایس بانی ہیڈگیوار کی تقریر کو نصاب میں شامل کرنے کی مخالفت کی۔ نئے مذاہب کے قیام سے متعلق مضمون میں برہمن طبقہ کی برتری اور دیگر طبقات کو نظر انداز کرنے کا ذکر کیا گیا جس کے نتیجہ میں عوام نئے مذاہب کی طرف رجوع ہونے پر مجبور ہوگئے۔ ذات پات اور دیگر سماجی ناانصافیوں کے نتیجہ میں مہاویر اور گوتم بدھ جیسی شخصیتوں نے مظلوم عوام کی قیادت کا بیڑہ اٹھایا ۔ اس طرح دو نئے مذہب جین اور بدھ ازم وجود میں آئے۔ ر