سوشیل میڈیا پر سیاسی تشہیر
حیدرآباد۔13فروری(سیاست نیوز) سیاسی قائدین بھی اب سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کے حق میںہوتے جا رہے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا چلانے والوں کی جانب سے نہ صرف خبریں بلکہ سیاسی تشہیر کے لئے ان کا استعمال کرتے ہوئے اس کے لئے بھاری رقومات وصول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس طرح کے ٹھیکہ نہ دیئے جانے کی صورت میں انہیں بلیک میل کیا جانے لگا ہے۔سوشل میڈیا پر بااثر شخصیات و اداروں کے علاوہ سوشل میڈیا پر تفریحی پروگرامس چلانے والوں نے اب انتخابی تشہیر اور سیاسی جماعتوں کے لئے مہم چلانے اور ان کے نظریات کو فروغ دینے کے لئے کروڑہا روپئے وصول کرنے شروع کردیئے ہیں اور اپنی سوشل میڈیا مینجمنٹ کمپنیوں کے ذریعہ سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں سے رجوع ہونے لگے ہیں ۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہی سوشل میڈیا کمپنیاں وجود میں آنے لگی ہیں جو کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے حلقہ اثر اور قیمت کے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے ٹھیکہ حاصل کر نے لگی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں کانگریس ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارت راشٹر سمیتی کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں انتخابی تشہیر کے لئے قیمتوں کے متعلق واقف کرواتے ہوئے ان کے فیس بک‘ انسٹاگرام‘ ٹوئیٹر اور دیگر پلیٹ فارمس پر مہم کی پیشکش کی جارہی ہے اور اس کے لئے کروڑہا روپئے طلب کئے جارہے ہیں۔تلنگانہ کے علاوہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین کی اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں موجود ہیں اور وہ ان پلیٹ فارمس کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے ان کے ذریعہ اپنے رائے دہندوں اور عوام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے متعلق برسراقتدار سیاسی جماعت کے ایک سیاسی قائدنے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر سرگرم ہیں اور ان کی علحدہ ٹیم بھی اس پر کام کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود ان سے رجوع ہونے والی کمپنیوں کے مارکٹنگ ایجنٹس ان کی رسائی اور عوام پر اثرات کی رپورٹس پیش کرتے ہوئے الیکشن کے دوران تشہیر کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اس کمپنی کے ذمہ داروں سے بات چیت پریہ کہا گیا ہے کہ انتخابات تک تشہیر کے لئے 2کروڑ روپئے دیئے جائیں ۔ اسی طرح ایک اور سیاسی جماعت کے قائد جو ایوان میں نمائندگی کرتے ہیں کے مطابق سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر جن لوگوں کے صفحات موجود ہیں وہ 2تا5لاکھ روپئے طلب کر رہے ہیں اور اگر اس طرح انہیں کھلی چھوٹ فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں سیاسی قائدین کی مشکلات میں اضافہ ہونے لگ جائے گا۔سوشل میڈیا کمپنی کے ذمہ دارو ںکا کہناہے کہ خبروں اور تفریحی پروگرامس کرنے والوں کی جانب سے کی جانے والی ان کوششوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اپنے طور پر زائد از 10 سال سے سوشل میڈیا کمپنیاں چلا رہے ہیں اورسرکرد۰ کمپنیوں نے کئی انتخابات میں امیدوار اور سیاسی جماعتوں کے لئے مہم چلانے کے علاوہ منصوبہ بندی کی ہے۔م