ضلع اور بلاک کی سطح پر احتجاج کا اعلان ، حکومت کو یادداشت پیش کی جائیگی
نئی دہلی : سمیوکت کسان مورچہ نے 31 جنوری کو ملک بھر میں ’’یوم دغا‘‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر ضلع اور بلاک کی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ گذشتہ دنوں کسانوں کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ کسانوں کا دعویٰ ہیکہ حکومت نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ احتجاج کے موقع پر مرکزی حکومت کو ایک یادداشت حوالہ کی جائے گی۔ مورچہ سے مربوط تمام کسان تنظیمیں بڑے پیمانے پر اس احتجاج میں حصہ لیں گی۔ بھارتیہ کسان یونین کے قائد راکیش ٹکیت نے آج کہا کہ زرعی مسائل پر پیر کو ملک بھر میں ’’یوم دغا‘‘ منایا جائے گا۔توقع ہیکہ ملک کے کم از کم 500 اضلاع میں احتجاجی پروگرام منظم کیا جائے گا۔ متنازعہ تین زرعی قوانین کی واپسی کیلئے کسانوں نے ایک سال تک احتجاج کیا جس کے بعد حکومت نے متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر کسان تنظیموں نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت ان کے دیگر مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ کسانوں کے دیگر مطالبات میں اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کیلئے قانون سازی شامل ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہیکہ حکومت نے 9 ڈسمبر 2021ء کو جو وعدے کئے تھے ان کو ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔ احتجاجی کسانوں کے خلاف دائر کردہ مقدمات سے فوری دستبرداری کا بھی وعدہ کیا تھا کہ لیکن گذشتہ دو ہفتوں کے دوران کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ احتجاج کے دوران شہید کسانوں کے ارکان خاندان کو معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا اور نہ ہی حکومت نے ایم ایس پی مسئلہ پر کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ لہٰذا سمیوکت کسان مورچہ نے 31 جنوری کو ملک بھر میں ’’یوم دغا‘‘ منا کر حکومت کو اپنی ناراضگی اور برہمی سے واقف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسانوں کے احتجاج سے متعلق آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دینے کیلئے 3 فروری کو پریس کانفرنس کی جائے گی۔