کسانوں کی اسکیمات پر عمل آوری میں تاخیر سے سکھیندر ریڈی ناراض

   

کسی ایک اسکیم پر مکمل عمل آوری کی تجویز، کسانوں میں ناراضگی کا اعتراف
حیدرآباد ۔24۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے صدرنشین جی سکھیندر ریڈی نے کسانوں کی بھلائی سے متعلق اسکیمات پر حکومت کی جانب سے واضح موقف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر کسانوں سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری میں تاخیر پر ناراضگی جتائی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سکھیندر ریڈی نے کہا کہ کسانوں کی اسکیمات پر عمل آوری کے بارے میں حکومت کو واضح موقف اختیار کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رعیتو بھروسہ اور فصل پر بونس کی ادائیگی جیسی اسکیمات پر عمل کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیمات پر عمل آوری سے حکومت کو اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ فصلوں پر بونس کی ادائیگی سے حکومت 2000 کروڑ ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بھروسہ اسکیم کی مکمل رقم ادا نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں کسانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کو معاشی طورپر دشواریوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف اسکیمات پر عمل آوری میں تاخیر ہورہی ہے۔ ان حالات میں حکومت کو واضح طور پر فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ کسانوں کی ناراضگی کو دور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو رعیتو بھروسہ یا بونس میں کسی ایک اسکیم کا انتخاب کرتے ہوئے مکمل طورپر عمل کرنا چاہئے۔ سکھیندر ریڈی نے کہا کہ کسی ایک اسکیم پر مکمل عمل آوری سے کسانوں کو امدادی رقم حاصل ہوگی اور حکومت پر معاشی دباؤ میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی کمزور موقف سے کسانوں کو واقف کراتے ہوئے احتجاج سے روکا جاسکتا ہے۔ 1/k/m/b