کانگریس کی درخواست پر 15 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت
نئی دہلی : سپریم کورٹ چہارشنبہ15 جنوری کو کانگریس سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعہ دائر رِٹ درخواست کی سماعت کرے گا۔ درخواست میں الیکشن رولز 1961 میں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ رول بعض الیکٹرانک دستاویزوں کو عوامی معائنہ سے روکنے کے متعلق ہے جس پر کانگریس کو اعتراض ہے۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کاز لسٹ کے مطابق سی جے آئی سنجیو کھنّہ اور سنجے کمار کی بنچ 15 جنوری کو معاملے کی سماعت کرے گی۔ 24 دسمبر کو سپریم کورٹ میں دائر اپنی عرضی میں کانگریس جنرل سیکریٹری نے دلیل دی کہ ای سی آئی کو 1961 کے الیکشن کنڈکٹ رولز میں اس طرح ایک طرفہ اور بغیر عوامی مشاورت کے ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے لکھا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس پر آزادانہ اور منصفانہ انتخاب کرانے کی ذمہ داری ہے اس لیے ایک طرفہ اور عوامی مشاورت کے بغیر اتنے اہم رول میں اس طرح کی ڈھٹائی سے ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ انتخابی عمل میں دیانت داری تیزی سے کم ہو رہی ہے اور امید ہے کہ سپریم کورٹ اسے بحال کرنے میں مدد کرے گی۔ راجیہ سبھا رکن رمیش نے اس بارے میں مزید کہا کہ ای سی آئی کی سفارشوں کے بعد 21 دسمبر کو پیش کی گئی ترمیم انتخابی عمل کو مزید شفاف اور جوابدہ بنانے والی ضروری معلومات تک عوام کی رسائی کو ختم کر دیتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ترمیم کو واضح طور پر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ذریعہ انتخابی بوتھ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب کرانے کی ہدایات کے جواب کے طور پر دیکھا گیا۔ اس سے قبل ٹاملناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھی ترمیم پر سخت تنقید کی اور اسے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات پر غیر جمہوری حملہ قرار دیا۔ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ انتخابات میں شفافیت کو کمزور کرنے کے لیے انتخابی ضابطوں کے سیکشن 39(2)(اے) میں لاپرواہی سے ترمیم کے ساتھ بی جے پی کی زیر قیادت والی مرکزی حکومت کے تحت جمہوریت کو اب تک کے سب سے بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ اسٹالن نے تمام سیاسی جماعتوں جن میں مرکزی حکومت سے اتحاد کرنے والی پارٹیاں بھی شامل ہیں سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات پر ہو رہے غیر جمہوری حملوں کے خلاف متحد ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔