کوئمبتور دھماکہ:حملہ آور کے پانچ ساتھی گرفتار

   

چینائی : کوئمبتور کار دھماکے کی تحقیقات کرنے والی ایک خصوصی ٹیم نے مشتبہ بنیاد پرست اسلامک اسٹیٹ کی رکن جمیشا منیب، جو اس دھماکے میں ماری گئی تھی کے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے ۔ پولیس نے ان پانچ مشتبہ افراد کو پیر کی رات دیر گئے اور آج صبح مختلف سراغوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر ایک منصوبہ بند کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا۔ گرفتار افراد کی شناخت محمد تھلکا (25)، محمد اظہر الدین (23)، محمد ریاض (27)، فیروز اسماعیل (27) اور محمد نواز اسماعیل (27) کے طور پر کی گئی ہے جو ایکدم علاقے کے قریب جی نگر کے رہنے والے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمد تھلکا نے مبین کے لئے دھماکے میں استعمال ہونے والے کار کا انتظام کیا تھا جس میں اتوار کی صبح 4 بجے کوٹائی ایسوارن مندر کے سامنے پھٹ گیا جب ایل پی جی کے دو سلنڈروں میں سے ایک 35 کلو وزنی کمرشل سلنڈر پھٹ گیا جس سے مبین کی موت ہو گئی۔ دھماکے میں وہ بری طرح جھلس گیا جس کی وجہ سے اس کی لاش کی شناخت مشکل ہو گئی۔ اسی تناظر میں پولیس نے 1998 کے کوئمبٹور بم دھماکوں کے مرکزی ملزم الامہ کے بھائی نواب خان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اطلاعات کے مطابق مبین سے تعلق کی اطلاع کی بنیاد پر نواب خان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ مبین کی شناخت کے فوراً بعد پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا اور دھماکہ خیز مواد کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا جس میں پوٹاشیم نائٹریٹ، ایلومینیم پاؤڈر، سلفر، چارکول شامل تھے ، جو دیسی بم بنانے میں استعمال ہوتے تھے ۔ ڈی جی پی سی سلیندر بابو نے کہا کہ مبین کے گھر سے ضبط شدہ مواد اور ان کی کار میں دھماکے کے بعد جگہ پر بکھرے ہوئے کیلوں اور پتھروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ مبین کوئمبٹور کے کسی بھی معاملے میں ملوث نہیں تھا جیسا کہ اس کے کچھ دوست تھے ۔ اس کے رابطوں، سوشل میڈیا کی سرگرمیوں وغیرہ کی تفتیش جاری ہے ۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مبین سے سال 2019 میں بھی این آئی اے نے پوچھ گچھ کی تھی۔ کوئمبتور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مبین محمد اظہر الدین کا معاون تھا، جو آئی ایس کے ایک معاملے میں کیرالہ کی جیل میں بند ہے ۔ اظہرالدین سال 2019 کے ایسٹر بم دھماکے کا ماسٹرمائنڈ زہران ہاشم کا فیس بک دوست ہے جس میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔