نئی دہلی: صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے آج کہا کہ کورونا بحران کے دوران ہندوستان کی صلاحیت نظر آئی ہے اور ملک سے 180 ممالک کو متعلقہ ادویات سپلائی کی جارہی ہیں۔ صدر آج بجٹ اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ملک میں صحت خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کر رہی ہے ۔ ملک کے فارما سیکٹر نے اپنی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ہندوستان میں بنائے جا رہے کووِیڈ ویکسین پوری دنیا کو وبا سے نجات دلانے اور کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہندوستان سے تقریباً 180 ممالک کو ادویات سپلائی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت جیسی اسکیموں کے ذریعے صحت خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا جارہاہے اور وسعت دی جارہی ہے ۔ ملک میں روایتی ادویات میں بھی لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے ۔ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں یوگا، آیوروید اور روایتی ادویات کے نظام کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔صحت خدمات کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ 64 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے پی ایم آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن ایک قابل ستائش مثال ہے۔ اس سے نہ صرف صحت کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملک کو آنے والے بحرانوں کے لیے بھی تیار کیا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں 90 فیصد سے زائد بالغ شہریوں کو ویکسین کی ایک خوراک مل چکی ہے جبکہ 70 فیصد سے زائد افراد دونوں خوراک لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اور شہریوں کے درمیان یہ باہمی اعتماد، ہم آہنگی اور تعاون جمہوریت کی طاقت کی شاندار مثال ہے ۔ اس کے لیے میں ملک کے ہر صحت اور صف اول کے واریئر، ہر اہل وطن کو مبارکباد دیتا ہوں۔صدر نے کہا کہ کوویڈ ۔ 19 کے خلاف اس لڑائی میں ہندوستان کی صلاحیت کا ثبوت کوویڈ ویکسینیشن پروگرام میں دیکھا گیا ہے۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 150 کروڑ سے زیادہ کوویڈ ویکسین کا ریکارڈ عبور کیا گیا ہے ۔ حکومت نے 8000 سے زیادہ ’جن اوشدھی کیندر‘ کے ذریعے سستی قیمتوں پر دوائیں دستیاب کروا کر علاج کی لاگت کو کم کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی حساس پالیسیوں کی وجہ سے اب ملک میں صحت خدمات عام آدمی تک آسانی سے دستیاب ہیں۔ 80 ہزار سے زیادہ ہیلتھ اینڈ ویلنیس سنٹراور کروڑوں آیوشمان بھارت کارڈ سے غریبوں کو علاج میں مدد ملی ہے۔وزیراعظم غریب کلیان ان یوجنا شرو ع کی گئی۔ اس سے تحت قریب 80 کروڑ لوگوں کو مفت خوراک کی فراہمی کی گئی۔ اس منصوبے پر دو لاکھ 60 ہزار کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے فوڈ پروگرام کو حکومت نے مارچ 2022 تک بڑھا دیا ہے ۔