ذہنی کام کاج میں دشواری ، سونگھنے کی صلاحیت سے محرومی ، اعصاب شکنی ، جنوبی کوریا کی تحقیق میں انکشاف
حیدرآباد۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے 90 فیصد مریضوں کو کوئی نہ کوئی مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح کے عارضہ میں مبتلاء ہیں۔ جنوبی کوریا کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین صحت یاب ہونے کے بعد کسی نہ کسی مرض میں مبتلاء ہیں جس کی تحقیق کی جانی چاہئے اور اس کے علاج پر توجہ مرکوز کئے جانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متوفیوں کی تعداد 10لاکھ سے تجاوز کئے جانے کے بعد جنوبی کورویا میں کی گئی تحقیق کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 10 کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں میں 9 افراد ایسے ہیں جن کو مستقل مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعدکئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ صحت یاب مریض سونگھنے کی صلاحیت سے محروم ہونے لگے ہیں اور اس کے علاوہ ذہنی تناؤ اور دیگر عوارض کا شکار ہونے لگے ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد کا جائزہ لینے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وائرس کا شکار افراد تیزی سے صحت یاب ہونے لگے ہیں لیکن ان کو بہتر نگہداشت بالخصوص صحت یاب ہونے کے بعد درپیش مسائل کا سامنا کرنے کے قابل بنایاجائے۔ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 965مریض جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں ان میں 879 افراد کو ئی ایک ایسا عارضہ لاحق ہوا ہے جو کہ انہیں مسلسل پریشان کئے ہوئے ہے
اور وہ اس ایک عارضہ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کو توجہ دہانی کے علاوہ ذہنی کام کاج کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان مسائل سے نمٹنے کیلئے لازمی ہے کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے فوری بعد صحت کی مکمل جانچ اور سونگھنے کی صلاحیت کے علاوہ دیگر مسائل کا جائزہ لیا جائے اور فوری طور پر اس کا علاج شروع کیا جائے ۔ ماہرین کا کہناہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے مریضوں میں ذہنی تناؤ کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور اس کی بنیادی وجہ مرض کے دوران ان کے ساتھ رکھا جانے والا سلوک اور ان کو یکا و تنہاء کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات ہیں اسی لئے ان کو ذہنی تناؤ کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے صحت یاب ہونے کے بعد ان کی کونسلنگ کے علاوہ انہیں بہتر اور معیاری ادویات کے ذریعہ ان کے علاج کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے اس رپورٹ کے انکشاف کے بعد دنیا کے دیگر کئی ممالک میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی صحت کا جائزہ لینے اور انہیں پیدا ہونے والے مسائل پر تحقیق کا کام شروع کیا جاچکا ہے جبکہ امریکہ اور ہندستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی صحت کا جائزہ لینے کے عمل کا سلسلہ جاری ہے لیکن تاحال اس سلسلہ میں کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔