کورونا چین کے لیاب سے پھیلا۔امریکی سینیٹ کی رپورٹ

   

نئی دہلی: امریکی سینیٹ کی رپورٹ میں کورونا وائرس سے متعلق سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس چین کی لیاب سے پھیلا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کوویڈ۔ 19 کے آغاز سے ہی چین کی ووہان لیاب کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک بار پھر کورونا وائرس کے حوالے سے یہ بات زیر بحث ہے کہ یہ جان لیوا وائرس چین کی ووہان لیاب سے نکلا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی سینیٹ میں کیا گیا ہے۔یہ رپورٹ جمعرات کو امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وبا کے تباہ کن وائرس کی ابتدا چین کی ووہان لیاب سے ہوئی۔ اس رپورٹ میں اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ کس طرح وبا کا کورونا وائرس ایک لیاب سے نکلا اور پوری دنیا میں تباہی مچا دی تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فی الحال اس کو سچ ماننے کے لیے کافی شواہد نہیں ہیں۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی یہ رپورٹ امریکی سینیٹ میں اپوزیشن کی ریپبلکن پارٹی کی جانب سے بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے پیش کی گئی ہے، تاکہ وہ کورونا وائرس کے انفیکشن کی لیاب لیک تھیوری کو زیادہ سنجیدگی سے لیں۔ کورونا وائرس کہاں سے آیا اور کیسے پھیلا یہ پوری دنیا میں ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔تاہم اب بھی بہت سے سائنسدان اگست کے مہینے میں سائنس میگزین کے ایک مضمون میں اس نتیجے کی حمایت میں شائع ہوئے کہ یہ چین کے شہر ووہان میں سمندری غذا کی ایک پرہجوم مارکیٹ میں جانوروں سے انسانوں میں پھیل گیا تھا۔ اسی وقت بہت سے سائنسدانوں نے کوویڈ۔19کی لیاب لیک تھیوری پر اختلاف ظاہر کیا ہے۔