نظام آباد کی طرف تیز رفتاری سے لے جانے کا انکشاف، کئی گاڑیوں کو ٹکر،سارق گرفتار
کورٹٹہ 23 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کورٹلہ کے بس اسٹانڈ میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ بس ڈرائیور کے چائے پی کر پلاٹ فارم پر واپس ہونے پر بس دکھائی نہ دینے پر ڈرائیور نے سمجھا کہ شاید بس کو میکانک لے گیا ہو۔ ڈرائیور کو کچھ دیر بعد اصل معاملہ میں سمجھ میں آیا، تب تک نامعلوم شخص نے بس کو اسٹارٹ کرکے نظام آباد کی جانب لے جارہا تھا۔ فوری آر ٹی سی عہدیداروں نے پولیس کو اطلاع دینے پر کورٹلہ سے شروع ہوا یہ معاملہ ملزم کی گرفتاری سے آخرکار حل ہوگیا۔ بس کا سرقہ کرتے ہوئے تیز رفتاری سے چلاتے ہوئے کئی ٹو وہیلرس گاڑیوں کو ٹکر دینے والے ملزم کو پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا۔ پولیس کی اطلاع کے مطابق دھرم پوری منڈل ناگارم گاؤں کے متوطن 39 سالہ کے سمبھیا کورٹلہ بس اسٹانڈ میں کھڑی ہوئی آر ٹی سی بس کا اغواء کرلیا۔ سب انسپکٹر پولیس کورٹلہ چرنجیوی نے یہ بات بتائی۔ کسی طرح کا شک پیدا نہ ہونے کے لئے بس کو اسٹارٹ کرنے کے بعد اس نے چند ہی لمحوں میں بس اسٹانڈ سے نظام آباد کی جانب تیزی سے چلانے کا انکشاف کیا۔ بس کو بے قابو چلاتے ہوئے ملزم نے راستے میں 4 مختلف ٹو وہیلرس گاڑیوں کو ٹکر دی۔ اس واقعہ میں چند افراد زخمی ہوگئے، جس کے بعد راستے میں لوگوں میں افراتفری پھیل گئی۔ آر ٹی سی بس کے تیز رفتاری کے ساتھ چلائے جانے پر گاڑیوں کے مالکین نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنی جان بچائی۔ اطلاع ملتے ہی کورٹلہ مٹ پلی پولیس نے فوری بس کا اغواء کرنے والے شخص کا پیچھا کیا۔ پولیس کی گاڑیوں کے پیچھے سے آنے کے باوجود ملزم نے بس کی رفتار کم نہ کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ مٹ پلی بس ڈپو کے قریب روکنے کی کوشش کی گئی جس پر سمبھیا نے تیز رفتاری کے ساتھ بس چلاتے ہوئے چلا گیا جس سے حالات خراب ہوگئے۔ مٹ پلی سرکل انسپکٹر پولیس جناب سریش بابو نے میدان میں اُترتے ہوئے بہت ہی منصوبہ بند طریقہ سے بریکیڈ لگاکر بس کو روک لیا۔ راستہ نہ رہنے پر ملزم نے بس کو سڑک کی جانب سے روک دیا۔ پولیس نے فوری اس شخص کو حراست میں لے لیا۔ واردات پر کیس درج کرنے والی کورٹلہ پولیس نے ملزم کے سمبھیا کو چہارشنبہ کو باضابطہ حراست میں لے لیا۔ بعدازاں کورٹ میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے ریمانڈ میں بھیج دیا۔