کولکتہ کے اسٹرانگ روم میں مشتبہ سرگرمی کی شکایت‘ ممتابنرجی پہونچ گئیں

,

   

پارٹی کے دو امیدواروں کا سٹ ان احتجاج ۔ سوشیل میڈیا پر ویڈیو شئیر ۔ الیکشن کمیشن کا 77 بوتھس پر دوبارہ رائے دہی پر غور

کولکتہ 30 اپریل ( ایجنسیز ) چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی آج شام کولکتہ میں ایک اسٹرانگ روم پہونچ گئیں جہاں ان کی پارٹی کے ایک کارکن نے مشتبہ سرگرمی کی شکایت کی تھی ۔ بنگال کے وزیر ششی پانجہ اور ترنمول کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری کنال گھوش نے شام میں اسٹرانگ روم کے باہر سٹ ان احتجاج بھی شروع کردیا ۔ یہ دونوں ہی اسمبلی انتخابات میں پارٹی امیدوار ہیں۔ دونوں کا الزام ہے کہ اس ارٹانگ روم میں رکھے گئے ای وی ایم میں چھیر چھاڑ کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسٹرانگ روم کو ان کی پارٹی کے کسی نمائندگی کی موجودگی کے بغیر کھولا گیا تھا اور نامعلوم افراد کو اندر جانے کی اجازت دی گئی تھی ۔ ترنمول کانگریس کے سوشیل میڈیا پر بھی دعوی کیا گیا کہ ’ حیرت انگیز ۔ نیتاجی انڈور اسٹیڈیم کولکتہ میں بیالٹ باکسیس کھولنے کی الیکشن کمیشن اور بی جے پی کی جانب سے پارٹی نمائندوں کی موجودگی کے بغیر کوشش کی گئی ۔ ششی پانجہ اور کنال گھوش وہاں دھرنا پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ترنمول کانگریس کی رکن راجیہ سبھا سگاریکا گھوش نے بھی ایکس پر پوسٹ کیا ۔ انہوں نے ایک ویڈیو بھی شئیر کیا جس میں دکھایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اسٹرانگ روم میں کچھ کھول رہے ہیں۔ کنال گھوش نے کہا کہ پارٹی ورکرس اور حامی رات 3.30 بجے تک اسٹرانگ روم میں موجود تھے تاہم دوپہر میں انہیںو ہاں سے ہٹا دیا گیا ۔ انہیں مطلع کیا گیا تھا کہ شام چار بجے اسٹرانگ روم کھولا جائے گا ۔ کولکتہ شمال ‘ بیلا گھاٹا ‘ چورنگی ‘ انٹالی جوراسانکو ‘ کاشی پور ۔ بیلگاچییہ ‘ مانک ٹالہ اور شیا پوکور حلقہ جات کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اس اسٹرانگ روم میں رکھے ہوئے ہیں۔ بنگال میں ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہونے والی ہے ۔ اس دوران اطلاع ملی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بنگال میں چار اسمبلی حلقوں کے جملہ 77 پولنگ بوتھس پر دوبار ہرائے دہی کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ کمیشن کو فالٹا ‘ ڈائمنڈ ہاربر ‘ مگر ہاٹ اور بج بج حلقہ جات کے جملہ 77 ب وتھس پر بدعنوانیوں کی اطلاعات ملی تھیں جو پارٹی لیڈر ابھیشیک بنرجی کے لوک سبھا حلقہ میں واقع ہیں۔ یہاں دوبارہ رائے دہی کے مطالبات کئے گئے ہیں۔ یہاں ووٹنگ مشینوں میں خرابی ‘ بوتھ پر قبضہ ‘ ووٹرس کو دھمکانے کی شکایات ملی تھیں۔ الیکشن کمیشن ان شکایات کے ساتھ ان بوتھس پر دوبارہ رائے دہی کے امکانات پر غور کر رہا ہے تاہم ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔