کویتا کی نئی سیاسی جماعت

   

لازم ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
تلنگانہ کی سیاست میں ایک نئی سیاسی جماعت کا وجود عمل میں آیا ہے ۔ بی آر ایس کی سابق رکن پاریمنٹ و سابق رکن کونسل کے کویتا نے اپنی خود کی نئی سیاسی جماعت تشکیل دی ہے اورا س کا نام بی آر ایس کے سابقہ نام ٹی آر ایس سے مشابہت والا رکھا ہے ۔ انہوں نے اپنی پارٹی کا نام تلنگانہ راشٹرا سینا ( ٹی آر ایس ) رکھا ہے ۔ کویتا نے ہزاروں حامیوں کی موجودگی پارٹی کے نام اور پرچم و ایجنڈہ کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے ریاست کے عوام کو رجھانے کیلئے پانچ نکات پیش کئے ہیں اور کہا کہ وہ ریاست کی سیاست میں نیا انقلاب لانا چاہتی ہیں اور ریاست کے عوام کو انصاف دلانا چاہتی ہیں۔ کویتا کا کہنا ہے کہ ریاست میں بی آر ایس کے دس سالہ دور اقتدار اور پھر بعد میں ریونت ریڈی کے ڈھائی سالہ اقتدار میں تلنگانہ کیلئے وہ کچھ نہیں کیا گیا جو کیا جانا چاہئے تھا یا جس کی خواہش ریاست کے عوام رکھتے ہیں۔ کویتا کی خواہش ہے کہ وہ ریاست کی چیف منسٹر بنیں تاکہ عوام کی فلاح و بہبود کے کام انجام دے سکیں۔ کویتا کی جانب سے سیاسی جماعت کی تشکیل تو عمل میں آچکی ہے تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ ریاست کی سیاست پر واقعی کوئی اثر ڈال پاتی ہیں یا نہیں۔ تلنگانہ کا جو سیاسی ماحول ہے اس میں فی الحال کویتا کیلئے کوئی خاص جگہ دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ ریاست میں کانگریس برسر اقتدار ہے اور وہ دیہی علاقوں میںاپنی اچھی گرفت بنائے ہوئے ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن بی آر ایس ہے جو دیہی علاقوں میں قدرے کمزور موقف کے باوجود شہری علاقوں میں اپنی اچھی مقبولیت رکھتی ہے ۔ ریاست میںحالیہ پنچایت اور مجالس مقامی انتخابات میں بھی بی آر ایس کانگریس کے بعد دوسرے نمبر پر رہی ہے ۔ بی جے پی ریاست میں اپنی مستقل جگہ بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ بھلے ہی اس کے ریاست سے آٹھ ارکان پارلیمنٹ اور آٹھ ارکان اسمبلی منتخب ہوئے ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی اب بھی ریاست میں حصول اقتدار کا دعوی پیش کرنے کے موقف میں نہیں آئی ہے اور خود بی جے پی کو بھی اس بات کا احساس ہے ۔ عوام بھی اس بات کو سمجھتے ہیں۔
ان تینوں جماعتوں کی موجودگی میں ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام سے ریاست میں سیاسی استحکام کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے ۔ تلنگانہ ایک چھوٹی ریاست ہے اور یہاں اسمبلی کی اتنی زیادہ نشستیں نہیںہیں کہ ریاست کے عوام چار سیاسی جماعتوںکے درمیان بٹ سکیں۔ اس کے علاوہ شہر میں مجلس اتحاد المسلمین کا اپنا اثر و رسوخ ہے اور پرانے شہر کے سات حلقوں میں جماعتوں کیلئے کوئی جگہ دکھائی نہیں دیتی ۔ ایسے میں کویتا کی نئی سیاسی جماعت کیلئے زیادہ کچھ جگہ بن پانا فی الحال تو مشکل ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ ماضی کے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ خاندان میںاختلاف رائے رکھتے ہوئے قائم کی گئی سیاسی جماعتیں زیادہ کچھ مقبولیت حاصل نہیں کر پائی ہیں۔ آندھرا پردیش میں وائی ایس شرمیلا کی مثال موجود ہے ۔ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی دختر ہونے کے باوجود انہوں نے نئی سیاسی جماعت بنائی تاہم وہ جگن موہن ریڈی کا متبادل بن کر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ایس طرح مہاراشٹرا میں بال ٹھاکرے کے دور میں دوسرے نمبر کی پوزیشن رکھنے والے راج ٹھاکرے نے اپنی الگ سے سیاسی جماعت مہاراشٹرا نو نرمان سینا بنائی تاہم وہ بھی رائے دہندوں پر اثر انداز نہیں ہوسکے حالانکہ انہوں نے مراٹھی اور مراٹھا عوام کے نعرہ کو شدت سے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی اور شمالی ہند کے باشندوں کے خلاف باضابطہ مہم چلانے کے باوجود وہ مہاراشٹرا کے سیاسی حلقہ میں اپنا مقام بنانے میں ناکام ہی رہے تھے ۔
خاندان کے کنٹرول والی وہی جماعتیں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں سیاسی اعتبار سے کامیاب ہوسکیں جن کا تسلسل آئندہ نسلوں نے برقرار رکھا تھا ۔ کے کویتا تلنگانہ کی سیاست میں اس روایت کو برقرار رکھ پاتی ہیں یا پھر وہ ایک نئی روایت کی شروعات کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا ۔ ریاست میںباضابطہ انتخابات کیلئے ابھی دو سال سے زائدکا وقت ہے اور اس دوران جو کچھ بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاہم ریاست کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نئی جماعتوں کی وجہ سے تلنگانہ کی سکیولر سیاست کو نقصان نہ ہونے پائے اور فرقہ پرستوں کو حاشیہ پر ہی رکھا جائے ۔