حیدرآباد۔/27 فروری، ( سیاست نیوز) حکومت کی مدد کا انتظار کئے بغیر گاؤں والوں نے کچرے سے آمدنی کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔ یہ منفرد تجربہ ریاست کے دیگر دیہی علاقوں اور پنچایتوں کیلئے رول ماڈل بن سکتا ہے۔ آصف آباد ضلع کے بعض مواضعات والوں نے کچرے کو دولت میں تبدیل کرنے کا فن سیکھ لیا ہے جس کے نتیجہ میں انہیں حکومت کی امداد پر انحصار کی ضرورت نہیں۔ پلے پرگتی پروگرام اور سوچھ بھارت ابھیان سے جذبہ حاصل کرتے ہوئے تریانی اور جینور منڈلوں کے مواضعات مندا گوڑہ، دھابولی کے لوگوں نے کچرے کو صفائی اور ری سائیکلنگ کے بعد بھاری رقم حاصل کی ہے۔ پلاسٹک اور استعمال شدہ گلاسیس اور شراب کی خالی بوتلوں کو فروخت کرتے ہوئے 5224 روپئے کی آمدنی حاصل کی۔ اسی طرح لوہے کا اسکراپ، پلاسٹک اور دیگر بوتلوں کی فروخت کے ذریعہ جینور منڈل کے دھابولی گاؤں والوں نے 13000 سے زائد روپئے جمع کئے۔ ضلع کے ویجور منڈل کے دو گاؤں میں ناکارہ اشیاء کو صاف کرنے کے بعد فروخت کرتے ہوئے 2000 سے زائد کی آمدنی کا مستقل ذریعہ بنایا ہے۔ ر