کچھ لوگ خوف پھیلارہے ہیں کہ آر ایس ایس سے اقلیتوں کو خطرہ ہے:بھاگوت

,

   

مشرقی تیمور ، کوسوو اور جنوبی سوڈان جیسے ممالک آبادی میں عدم توازن کی وجہ سے وجود میں آئے، دسہرہ ریالی سے خطاب

ناگپور : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ کچھ لوگوں کی طرف سے یہ خوف پھیلایا جا رہا ہے کہ ہماری وجہ سے اقلیتوں کو خطرہ ہے۔ یہ نہ سنگھ کی فطرت ہے اور نہ ہندوؤں کی۔ سنگھ بھائی چارے، اور امن کے ساتھ کھڑا ہونے کا عزم کرتا ہے۔موہن بھاگوت نے ملک میں مختلف برادریوں میں آبادی کی عدم مساوات پر مشورہ دیا ہے کہ ایک جامع ‘آبادی پالیسی’ بنائی جائے جو ملک کے تمام طبقات پر لاگو ہو۔مہاراشٹر کے ناگپور میں آر ایس ایس کے دفتر میں منعقدہ دسہرہ ریلی میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی کی بنیاد پر آبادی میں عدم مساوات ایک بڑا عنصر ہے اور اسے کسی بھی حالت میں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ملک کے مختلف طبقات کی آبادی میں توازن رکھنے کی ضرورت ہے۔ آبادیاتی تفاوت جغرافیائی حدود میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ مشرقی تیمور، کوسوو اور جنوبی سوڈان جیسے نئے ممالک کچھ کمیونٹیز میں آبادی کے عدم توازن کی وجہ سے بنے۔ ہم آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ چین میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ایک بچہ’ کی پالیسی اپنانے والا چین اب ترقی یافتہ ملک بنتا جا رہا ہے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان، جس میں 57 کروڑ نوجوان ہیں، مزید 30 سال تک ہندوستان ایک نوجوان ملک رہے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے آبادی کے حساب سے وسائل بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا.. مزید 50 سال بعد ہندوستان کا کیا ہوگا..؟ کیا ہمارے پاس اس آبادی کے لیے کافی خوراک ہوگی؟ اس معاملے پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں سماج میں اتحاد کی اپیل کی ہے۔ خاص طور پر دلتوں کے خلاف مظالم کا ذکر کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ کون گھوڑے پر سوار ہوسکتا ہے اور کون نہیں، اس طرح کی چیزوں کو اب سماج سے ہٹا دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سب کے لیے ایک ہی مندر، پانی اور شمشان گھاٹ ہونا چاہیے۔ انہوں نے سنگھ کے رضاکاروں سے اس کے لیے کوششیں کرنے کی اپیل کی۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ اگر سنگھ کے رضاکار اس طرح کی کوششیں کریں تو سماج میں عدم مساوات کو دور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کرنا ادھرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذہب کے دائرے سے باہر ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کی ضرورت:بھاگوت
ناگپور: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے چہارشنبہ کو کہا کہ خواتین کے ساتھ مساوی سلوک کرنے اور انہیں اس طرح بااختیار بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود لیں۔ یہاں ریشم باغ میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر میں سالانہ وجے دشمی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا، “طاقت امن کی بنیاد ہے اور ہمیں خواتین کے ساتھ مساوی سلوک کرنے اور انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے بااختیار بنانے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ خواتین کے بغیر معاشرہ خوشحال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، ‘‘ہمارے سناتن دھرم میں رکاوٹیں ان طاقتوں نے پیدا کی ہیں جو ہندوستان کے اتحاد اور ترقی کی مخالف ہیں۔ وہ انتشار کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں، دہشت گردی، تنازعات اور سماجی بدامنی کو فروغ دیتے ہیں۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ فطرت تبدیلی کا قانون ہے ، سناتن دھرم کو ثابت قدم رہنا چاہیے اور ساتھ ہی ہندوستان کو جامع غور و فکر کے بعد آبادی کی پالیسی بنانی چاہیے اور اسے تمام کمیونٹیز پر یکساں طور پر نافذ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی کیریئر کے لیے اہم ہے ، یہ لوگوں کی غلط فہمی ہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی کو اپناتے ہوئے طلبہ کو اعلیٰ تہذیب یافتہ، اچھے انسان بننا چاہیے ، جو حب الوطنی سے بھی متاثر ہوں۔ ہمیں فعال طور پر اس کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے ۔ بھاگوت نے بیروزگاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر اپوزیشن کی چیخوں کا بھی جواب دیا اور کہا، حکومت کو صرف ملازمتوں اور روزگار کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے ۔ معاشرے اور عوام کو بھی اس کے لیے کام کرنا چاہیے ۔اقلیتوں کے لیے خطرہ ہونے کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ایسی حرکتوں کا نہ تو سنگھ سے تعلق ہے اور نہ ہی ہندوؤں سے ۔ ہندو کی فطرت بھائی چارے اور امن کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہے ۔سابق کوہ پیما سنتوش یادو پروگرام کے مہمان خصوصی تھے ۔