خواجہ رحیم الدین
(امریکہ)
صحت خدا کی عظیم نعمت ہے ۔ صحت کی حفاظت میں لاپرواہی نہ کریں، ایک بار جب صحت بگڑ جاتی ہے تو پھر بڑی مشکل سے بنتی ہے۔ جس کھانے پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا اس کو شیطان اپنے لئے جائز کرلیتا ہے۔ کھانا مل جل کر کھانے سے محبت پیدا ہوتی ہے اور برکت بھی۔ ٹوٹے ہوئے برتن میں نہ کھائیں اور نہ پئیں ، ٹوٹے ہوئے حصہ میں جراثیم ہوسکتے ہیں اور گندی یا مضر چیز پیٹ میں نہ جائے ۔ کھانے سے فارغ ہوکر دعا ضرور پڑھیں۔ کھانا حلال مومن کیلئے اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ حرام رزق کھانے والے شخص کی دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔
حدیث میں فرمایا گیا ہے رزق حلال کھانے والا اللہ کا محبوب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افطار کے وقت کھاتے وقت جو دعا مانگے اس کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔ خدا کی راہ میں حلال مال (کھانا) خرچ کیجئے اللہ صرف وہی مال قبول کرتا ہے جو پاک اور حلال ہو۔ مہمانوں کے کھانے پینے پر مسرت محسوس کیجئے ، مہمان زحمت نہیں بلکہ رحمت اور خیر و برکت کا ذریعہ ہوتا ہے اور اللہ جس کو ہمارے یہاں بھیجتا اس کا رزق بھی اتار دیتاہے ۔ وہ ہمارے دسترخوان پر ہماری قسمت کا نہیں کھاتا بلکہ اپنی قسمت کا کھاتا ہے۔ کھانے کے لئے جب جائیں تو پہلے اپنا ہاتھ دھولیں پھر مہمان کا ہاتھ ۔ دسترخوان پر خورد نوش کا سامان اور برتن مہمان کی تعداد سے کچھ زیادہ رکھیں ہوسکتا ہے درمیان میں کوئی اور بھی آجائے۔
جب کہیں جائیں ادب سے بیٹھیں ، پاؤں پھیلاکر یا پنڈلیاں کھول کر نہ بیٹھیں۔ جب ہم دعوت میں جائیں تو السلام و علیکم ضرور کہہ دیں، جواب میں وعلیکم السلام کہہ دیں۔ حرام کے رزق سے پلا ہوا جسم دوزخ کے لئے ہی تیار ہوتا ہے ۔ اس سے بیماریاں ، حادثات ، اولاد کی نافرمانی ایسے لوگوں میں آئے دن نظر آتی رہتی ہیں۔ آداب میں یہ بھی عرض کردوں کہ لڑکیوں اور عورتوں کو ورثے سے محروم کردیا جاتا ہے ، سورۃ النساء کے اندر آدمی کو جو ورثے کے اندر زیادتی اور تجاوز کرنا ہے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ مرنے والے کی ہر چیز ورثہ ہے، اس کے لباس ، اس کے جوتے ، اس کا مال ہر ایک چیز پر ورثوں کا حق ہے۔ ہمیشہ سیدھے ہاتھ سے کھانا چاہئے ، ضرورت پڑنے پر بائیں ہاتھ سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ نوالہ نہ زیادہ بڑا لیجئے اور نہ بالکل چھوٹا ، ایک نوالہ نگلنے کے بعد ہی دوسرا نوالہ منہ میں ڈالیئے ۔
ایک واقعہ بیان ہے دعوت چل رہی تھی ، گوشت کا بڑا ٹکڑا حلق میں رُک گیا۔ سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوتی رہی ، پسینہ میں شرابوش ، اللہ اللہ کہتے رہے، کچھ دیر بعد حرکت کرتے رہے ۔ وہ گوشت کا ٹکڑا نکل گیا ، اللہ کا شکر ادا کئے اور سیدھے وعلیکم السلام کہتے گھر لوٹ گئے۔ کھانے پینے کے آداب کا خیال نہ کرنا تکلیف کو جھیل لینا پڑتا ہے۔ پلیٹ میں اپنی طرف کے کنارے سے کھائیں ۔ کھانے پینے کی چیزوں پر ٹھنڈا ہونے کیلئے پھونک نہ مارے ، اندر سے نکلی سانس میں کچھ گندی اور معمولی جراثیم یہ صحت کو بگاڑسکتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہمان کی خاطر داری کیلئے جس انداز سے ابھارا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت ابو شریحؓ فرماتے ہیں جب رسول اللہ یہ ہدایت دے رہے تھے جو لوگ خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، انہیں اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کرنی چاہئے ۔ دعوت کھلانے کے بعد فخر و غرور نہ کریں۔ دعوت (کھانا کھلانا) کھلا کر اپنی برائی نہ جتائیں۔ معلوم نہیں خدا کے ہاں یہ دعوت کھانا قبول بھی ہوا یا نہیں۔ کھانا کھانے اور کھلاتے وقت محتاجوں ، فقیروں اور ملازمین کے ساتھ نرمی کا سلوک کیجئے نہ ان پر رعب جمائے نہ ان پر برتری کا اظہار کریں۔ مغربی ممالک میں کھانے کے بعد اپنے مکانوں میں اپنا برتن (رکابی) خود صاف کرلیتے ہیں۔ ہر کام سنبھل کرکرتے ہیں۔ ٹشو پیپر کا استعمال کرلیتے ہیںاور محفوط جگہ پر رکھ دیتے ہیں۔ مکھی ، مچھر نظر نہیں آتے۔
ایک واقعہ بیان ہے جس نے پوری زندگی قناعت اور سلیقہ زندگی کا لازمی جز تھا ، ان کے شوہر سرکاری ملازم تھے ، پہلے تنخواہ دو سو تین سو اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ کچھ بڑھتی ، گھر اور بچے ہر وقت صاف ستھرے نظر آتے۔ کم تنخواہ میں اس کو رکھنا ممکن نہ تھا ۔ خاتون خانہ بچوں کو اپنے ساتھ کام کاج پر اس طرح لگایا کہ پڑھائی کے وقت پڑھائی ، بچے اپنے کپڑے خود دھولیتے ، دو جوڑے باہر کیلئے محفوظ رکھتے ۔ یہ خاتون خانہ مہمانوں کی تواضع میں کمی آنے نہ دیتی۔ اس گھرمیں اگر چور آجائے تو کتابوں اور کاپیوں کے سوا اس مہمان کو کچھ نہیں ملتا ہاں حلال کمائی کا ایک وقت کا کھانا ضرور مل جاتا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی قناعت ، سلیقہ ، مہمان نوازی اتنی پسند آئی کہ خاتون خانہ بچے والدین کے فرمانبردار اعلیٰ تعلیم یافتہ رہے اور اپنے اپنے گھروں کے مالک بن گئے ۔ گھر کے تمام افراد حلال کمانے والے والدین رب رحیم کے شکر گزار۔
ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور بولا حضور میں بھوک سے بے تاب ہوں، رسول اللہ نے کہا اپنے گھر میں کھانے کیلئے جو کچھ موجود ہو بھیج دو، جواب آیا یہاں تو پانی کے سوا کچھ نہیں ، اس طرح ہر ام المومنین کی جگہ سے یہی جواب آنے لگا۔ رسول اکرم آخر صحابہؓ کی طرف متوجہ ہوئے ،ایک انصاری صحابی نے کہا میں قبول کرتا ہوں، صحابی مہمان کو اپنے گھر لے گئے اور بیوی سے کہہ دیئے یہ رسول اللہ کے مہمان ہیں، ان کی خاطر داری کرو، بیوی نے کہا میرے پاس تو صرف بچوں کے لائق کھانا ہے ، صحابی نے کہا بچوں کو کسی طرح سلادو اور جب مہمان کے سامنے کھانا رکھو بہانا کر کے چراغ گل کردو (بجھادو) اور مہمان کو ایسا محسوس ہو تاکہ ہم بھی ساتھ کھارہے ہیں۔ اللہ اکبر
مہمان کھانا کھالیا اور گھر والوں نے ساری رات فاقے سے گزاری ، صبح صحابی رسول اللہ کے پاس گئے ۔ صحابی کو دیکھتے ہی فرمائے تم سب نے رات مہمان کے ساتھ جو حسن سلوک کیا وہ اللہ کو بہت پسند آیا۔ ماشاء اللہ مہمان نیک دیندار ہو تو اپنے حق میں خیر و برکت کی دعا کے لئے درخواست کریں۔ آمین۔