مدینہ منورہ کی تصاویر اور خطاطی کے نمونوں کی نمائش کا افتتاح ۔ عامر علی خان ‘ڈاکٹر تجمل حسین وپروفیسر راشد نسیم ندوی کاخطاب
حیدرآباد6 ستمبر (پریس نوٹ )جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست حیدرآباد نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات قیامت تک کے لیے ہمارے لیے راہ نجات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدینہ طیبہ کی تصاویر اور خطاطی کی نمائش وجلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بعد از خدا توی خصہ مختصر سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو میڈیا پلس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاؤنڈری میں منعقد ہوا۔ جناب عامر علی خان نے اس موقع پر صحافی جناب کے این واصف کی مدینہ طیبہ سے متعلق تاریخی تصاویر اور جناب غوث ارسلان کے فن خطاطی کے نمونوں کی نمائش کا افتتاح کیا۔ جناب عامر علی خان نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید ساری دنیا کے لیے راہ ہدایت ہے ہم کو چاہیے کہ سیرت طیبہ پر سختی سے عمل کریں۔ ہمارے پاس نماز ہے، کلمہ ہے اور سب کچھ ہے لیکن اخلاقیات میں ہم پیچھے ہیں جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آداب واخلاق کے ساتھ پیش آنے پر بہت ہی زور دیا ہے اور حضور کی تعلیمات کو عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل لوگ بالکل بے راہ روی کا شکار تھے دنیا اندھیروں میں گھری ہوئی تھی لیکن آپ کے آنے کے بعد سارے عالم میں اُجالا ہو گیا ۔انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ جلسوں میں دوران تقاریر جب بھی اذان ہوتی ہے تو تقریر کرنے والے رک جاتے ہیں یا پھر تقریر کرنے والوں کو روک دیا جاتا ہے لیکن جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ مقرر تو اذان کے دوران رک جاتے ہیں لیکن دیگرلوگ ادھر ادھر باتوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں اس طرح کے عمل سے ہمیں باز رہنا ہوگا۔ انہوں نے مدینہ طیبہ سے متعلق جناب کے این واصف کے جمع کردہ تاریخی تصاویر اور جناب غوث ارسلان کی خوش نویسی کے نمونوں کی بے حد ستائش کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں میڈیا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر وہفت روزہ گواہ کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر فاضل حسین پرویز کو بھی مبارکباد پیش کی۔ صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا پروفیسر راشد نسیم ندوی نے اپنے پر مغز خطاب میں کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات ساری دنیا پر ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل زمین تو زمین انسانوں نے سمندروں کو بھی بگاڑ دیاتھا آفتاب رسالت طلوع ہونے کے بعد سارا ماحول منور ہو گیا، حضور اکرم بچپن ہی سے والدین کی شفقت سے محروم تھے لیکن آپ نے ایک مختصر سے وقفے میں اپنے اخلاق اور کردار کے ذریعے اسلام کا ایسا مثالی نمونہ پیش کیا جس کی قیامت تک مثال نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم پر آپ ﷺنے اپنے خاندان سے ہی اصلاح کا کام شروع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ والدین کی خدمت کریں اور غیر مسلم پڑوسی کی بھی خبر گری کریں یہ عظیم الشان ارشادات ہیں جنہیں عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے ۔ انہوں نے عامتہ المسلمین کو دینی محافل میں شرکت کرنے کی بھی تلقین کی کینسر اسپیشلسٹ و چیئرمین ایم سی سی ای شکاگو ڈاکٹر محمد تجمل حسین آنکا لوجسٹ نے صاحبزادہ میر محمود علی خان کی کتاب ’’سیرت قرآن‘‘ (انگریزی) کی رسم اجراء انجام دیتے ہوئے کہا کہ سائنس وٹکنالوجی سے اجالے نہیں پھیلتے بلکہ دین محمدی عام ہو جانے سے ہی دنیا میں اجالے پھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے ساری انسانیت کے لیے قیامت تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا عظیم الشان تحفہ عطا فرمایا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم حضور کے بتائے ہوئے طریقوں پر سچے دل سے عمل کریں۔ صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت جناب سید ایوب حسینی نے کہا کہ تعمیر ملت وہ عظیم الشان تنظیم ہے جس نے مولانا غوث خاموشی’ جناب سید خلیل اللہ حسینی ‘جناب عبدالرحیم قریشی اور مولانا سلیمان سکندر کی رہبری و رہنمائی میں قوم و ملت کی عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں جنہیں ملت فراموش نہیں کرسکتی۔ ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد ایڈوکیٹ نے کہا کہ مولانا ڈاکٹر اسرار احمد اورجناب شاہ بلیغ الدین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کے ملک میں بھی اتنے بڑے مذہبی جلسے نہیں ہوتے جتنے ہندوستان میں دیکھنے میں آتے ہیں، انہوں نے فن خطاطی کے نمونوں اور مدینہ طیبہ کی تصاویر کی نمائش پر جناب کے این واصف اور جناب غوث ارسلان کو دلی مبارکباد دی۔ صاحبزادہ میر احمد علی خان سابق سی ای او وقف بورڈ نے اس موقع سے طلباء کی کردار سازی میں جناب خلیل اللہ حسینی مرحوم کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ موجودہ حالات اس بات کے سخت متقاضی ہیں کہ ہم اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات پر سختی سے عمل کریں اور نوجوان نسل کو دینی معلومات سے واقف کراتے رہیں۔ ڈاکٹر فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ نے جناب کے این واصف اور جناب غوث ارسلان کی فنی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر حنیف زبیر فاروقی انجینئر کے فرزند عبدالقادر حنیف فاروقی نے اسماء الحسنی کو زبانی سنایا جس کی سامعین نے زبردست ستائش کی اور اس کمسن طالب علم کی والدہ ڈاکٹر عظمی وقار سائیکیاٹرسٹ کو بھی مبارکباد پیش کی۔ جناب کے این واصف نے بتایا کہ انہوں نے بڑی ہی عرق ریزی کے ساتھ مدینہ منورہ کے 50 سے زائد تصاویر جمع کیے ہیں اور ان تصاویر کے ذریعے اس وقت کے حالات سے عامتہ المسلمین کو واقف کروانے کی کوشش کی گئی ہے جناب غوث ارسلان نے اپنے تیار کردہ خوش نویسی کے نمونوں کی تفصیلات سے واقف کروایا اور کہا کہ ایک نمونہ اس میں ایسا بھی ہے جو امجد حیدرآبادی کی رباعی پر مشتمل ہے مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت امجد حیدرآبادی نے اپنے جن احساسات کا اظہار کیا تھا اس کو اشعار کی شکل میں لکھا تھا وہ بھی اس نمائش میں رکھا گیا ہے۔ اس متبرک اور مقدس جلسے کا آغاز جناب محمد منظم القاسمی کی قرات کلام پاک سے ہوا۔ جناب شعیب رضا خان فاضل بریلوی نے نعت سنائی۔ اس موقع پر صحافی جناب جے ایس افتخار کے علاوہ پروفیسر وحید اللہ، جناب عظمت اللہ صدیقی سکریٹری انتظامی کمیٹی مسجد عالیہ ، جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآباد کوآپریٹو بینک ،کرشما گروپ کے چیئرمین جناب محمد اسماعیل،ماہر تعلیم جناب محمد حسام الدین ریاض ، شاعرجناب لطیف الدین لطیف ، جناب بصیر خالد، ڈاکٹر ناظم علی، جناب سلیم احمد فاروقی بانی و صد اردو اکیڈمی جدہ ، جناب سید محمد زین العابدین، عثمان غوری ، جناب مظفر احمد ، ڈاکٹر فہمیدہ بیگم ،حکیم سلیم فاروقی( جدہ)،جناب مجاہد محی الدین اور دیگر معززین کی کثیر تعداد شریک تھی۔