پونے، 29 جون(ایجنسیز) پونے کے تاریخی لوہ گڑھ قلعہ میں رئیل اسٹیٹ کاروباری کیتن اگروال کے مبینہ قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کو ایسے ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزمہ سیا گوئل نے واقعے سے صرف 34 منٹ قبل اپنے عاشق اور شریک ملزم چیتن چودھری سے فون پر بات کی تھی۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ یہ گفتگو قتل پر عمل درآمد سے قبل آخری رابطہ تھی۔ ملزمان کے قبضے سے برآمد موبائل فونزکی فرانزک جانچ کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی، جسے اب تک کا سب سے اہم ڈیجیٹل ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ پونے دیہی پولیس کی تکنیکی نگرانی ٹیم اس کا تفصیلی تجزیہ کر رہی ہے۔ تحقیقات کے مطابق امکان ہے کہ اس گفتگو کے دوران سیا گوئل نے چیتن چودھری کو لوہ گڑھ قلعہ کے ایک ویو پوائنٹ پر اپنی درست لوکیشن سے آگاہ کیا اور بتایا کہ وہاں کوئی دوسرا شخص موجود نہیں، جس کے بعد مبینہ منصوبے پر عمل کیا گیا۔ پولیس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ دونوں ملزمان نے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق شواہد مٹانے کے لیے کئی ماہ پرانی واٹس ایپ چیٹس، انسٹاگرام پیغامات اور وائس نوٹس ہذف کر دیے ۔ سائبر ماہرین جدید فرانزک ٹیکنالوجی کی مدد سے حذف شدہ ڈیٹا بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔