کے سی آر اگلی بار اپوزیشن لیڈربھی نہ ہوں گے :ریونت ریڈی

   

کانگریس کا دوبارہ اقتدار یقینی، عہدہ نہ ملنے پر جیون ریڈی نے کانگریس سے دھوکہ کیا، کاٹارم میں جلسہ عام سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد ۔20۔ اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو چیلنج کیا کہ 2029 انتخابات میں اصل مقابلہ کیلئے تیار ہوجائیں۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ 2029 میں وہ کے سی آر کو لیڈر آف اپوزیشن کے عہدہ سے بھی محروم کردیں گے اور کانگریس پارٹی دوسری مرتبہ شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ چیف منسٹر آج میڈی گڈا بیاریج کے مرمتی کاموں کا جائزہ لینے کے بعد بھوپال پلی ضلع کے کاٹارم میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ متحدہ کریم نگر ضلع میں آج ریونت ریڈی اور کے سی آر نے عام جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ کے سی آر نے جگتیال میں جبکہ ریونت ریڈی نے کاٹارم میں جلسہ عام سے خطاب کیا اور دونوں عام جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد شریک تھی ۔ ریونت ریڈی نے گزشتہ دو سال کے دوران حکومت کے کارناموں کی تفصیلات بیان کی اور دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس 10 برسوں تک برسر اقتدار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 70 ہزار نوجوانوں کو سرکاری محکمہ جات میں تقررات کئے گئے۔ غریبوں کو باریک چاول مفت سربراہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے جیون ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال کیا کہ ایک شخص کو عہدہ نہ ملنے پر کیا عوامی حکومت اقتدار سے محروم ہوجائے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جیون ریڈی کو کئی عہدوں سے نوازا تھا اور اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے اہم عہدوں کے باوجود بی آر ایس میں شمولیت موقع پرستی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ سے محرومی پر جیون ریڈی تلنگانہ میں دوبارہ بی آر ایس حکومت کی خواہش کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں غریبوں کو مکانات اور اراضی نہیں دی گئی جبکہ کے سی آر نے ہزاروں ایکر پر فارم ہاؤز تعمیر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کی ہے اور فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس کارکنوں کو گواہ رکھتے ہوئے یہ چیلنج کر رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں کے سی آر کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کیلئے کانگریس کی ستائش کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ آزادی کے بعد سے جتنے بڑے آبپاشی پراجکٹس تعمیر ہوئے وہ کانگریس حکومتوں کی دین ہے۔ ریونت ریڈی نے اس موقع پر کسانوں کے لئے رعیتو بھروسہ اسکیم کی دوسری قسط جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کسانوں کو مفت برقی سربراہی کا پہلی مرتبہ آغاز کیا تھا ۔ کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات معاف کئے ہیں جس سے 20 تا 25 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوا اور 22 ہزار کروڑ کے قرضہ جات معاف کئے گئے ۔ رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت 9000 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ دوسرے مرحلہ میں آج 5700 کروڑ کسانوں کے بینک اکاونٹ میں جمع کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ 3,300 کروڑ کسانوں کے اکاؤنٹ میں جمع کئے جائیں گے ۔ حکومت تلنگانہ کے 3.5 کروڑ غریبوں کو ہر ماہ باریک چاول مفت سربراہ کر رہی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ 10 سالہ بی آر ایس کا دور حکومت عوام کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ 40 سال تک کانگریس میں رہنے والے جیون ریڈی نے اپنے خاندان کیلئے کئی عہدے حاصل کئے ۔ کانگریس نے 14 مرتبہ بی فارم حوالے کیا ، باوجود اس کے کانگریس کے ساتھ انہوں نے دھوکہ کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر تلنگانہ میں دوبارہ اقتدار کا خواب دیکھ رہے ہیں جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2023 سے تمام انتخابات میں بی آر ایس کو شکست ہوئی جن میں لوک سبھا ، پنچایت ، مجالس مقامی اور جوبلی ہلز اور کنٹونمنٹ اسمبلی کے ضمنی چناؤ شامل ہیں۔ جس طرح راج شیکھر ریڈی اور ڈی سرینواس نے آندھراپردیش میں کانگریس کیلئے دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کیا تھا ، اسی طرح میں اور مہیش کمار گوڑ مل کر تلنگانہ میں کانگریس کو دوبارہ برسر اقتدار لائیں گے ۔ جلسہ عام میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی ، سرینواس ریڈی ، پونم پربھاکر ، لکشمن کمار ، ڈی سریدھر بابو ، وی سری ہری کے علاوہ ضلع کے عوامی نمائندے شریک تھے۔1/k