دس سالہ دور میں تلنگانہ نمبر ون ریاست، ایل آر ایس اسکیم پر مفت عمل آوری کا مطالبہ
حیدرآباد۔/16 مارچ، ( سیاست نیوز) سابق وزیر ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی میں بی آر ایس دور حکومت کی کارکردگی پر گمراہ کن بیان دیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی ہمیشہ غلط بیانی سے کام لینے کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ دس سالہ دور حکمرانی میں کے سی آر نے تلنگانہ کو ملک میں نمبر ون ریاست کا درجہ دیا تھا۔ تلنگانہ ترقی اور فلاح و بہبود میں ملک کیلئے مثالی ریاست بن چکی تھی ایسی شخصیت کے خلاف ریمارکس کرنا ٹھیک نہیں۔ انہوں نے یاد دلایاکہ سابق میں قائد اپوزیشن کے عہدہ پر فائز جانا ریڈی ہمیشہ کے سی آر کا احترام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اسمبلی کو کے سی آر کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ کے سی آر کے خلاف اپنے ریمارکس پر معذرت خواہی کریں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس رکن اسمبلی جگدیش ریڈی کو اسمبلی میں وضاحت کا موقع دیئے بغیر معطل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ایل آر ایس اسکیم پر مفت عمل آوری کی جائے گی لیکن برسراقتدار آنے کے بعد عوام سے فیس وصول کی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی نے اسمبلی میں کے سی آر کے خلاف جو الزامات عائد کئے ہیں ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ مسلسل 14 برسوں تک جدوجہد کرتے ہوئے کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ کو حاصل کیا۔ تلنگانہ کے عوام کے سی آر کی جدوجہد سے اچھی طرح واقف ہیں۔ چیف منسٹر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کے سی آر یا کسی اور قائد کے بارے میں شخصی ریمارکس کریں۔ دریائے کرشنا کے پانی میں تلنگانہ سے ناانصافی کیلئے بی آر ایس حکومت ذمہ دار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے دریائے کرشنا کے پانی میں تلنگانہ کی 70 فیصد حصہ داری کو حاصل کیا تھا۔1