بڑے بھائی ماشا اللہ تو چھوٹے بھائی سبحان اللہ ہونے کا ریمارکس
حیدرآباد ۔ 27 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک پرائیوٹ شخص کے ذریعہ تمہاری بیوی اور بیٹی کے من مانی تصویر کشی کرائی گئی تو کیا تم خاموش رہو گے ؟ استفسار کیا ۔ کے ٹی آر نے اسمبلی میں تصرف بل مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کیا ریونت ریڈی تحریک آزادی میں حصہ لے کر جیل گئے ۔ کس لیے جیل کو گئے اور کیوں ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کیا ہم جیل کو نہیں گئے ۔ تلنگانہ تحریک کے دوران وہ بھی ورنگل کے جیل کو گئے ہیں اور وہاں رہے بھی ہیں ۔ کے ٹی آر نے چیف منسٹر سے استفسار کیا کہ تمہارے جوبلی ہلز پیالیس کی ڈرون کے ذریعہ تصویر کشی کی گئی وہاں آپ کی بیوی اور بیٹی ہو تو کیا تم خاموش رہو گے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سیاست الگ ہے اور فیملی الگ ہے ۔ چیف منسٹر نچلے سطح کی سیاست پر اتر آئے ہیں ۔ کے سی آر خاندان یہاں تک کے بچوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ ریاست میں ان کے چیف منسٹر سے لاکھ اختلافات ہوں گے مگر میں نے ٹاملناڈو میں ان کا بہت زیادہ احترام کیا ہے ۔ یہ ہماری تہذیب و تمدن ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کب تک بی آر ایس حکومت پر تنقید کرتے رہو گے ۔ عوام نے آپ کو حکمرانی کرنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کریں ۔ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے نا انصافی ہوئی ہے ۔ ان ناانصافیوں پر کانگریس کے قائدین خاموش ہیں ۔ بجٹ کے معاملے میں مودی اور ریونت ریڈی بڑے بھائی ماشا اللہ تو چھوٹے بھائی سبحان اللہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کوئی بھی حکومت ہو ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح پر اولین توجہ ہونا چاہئے ۔ اقتدار آتا ہے جاتا ہے ۔ کسی کے لیے مستقل نہیں ہوتا ہے ۔ کانگریس کے قائدین مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے ہونے والی نا انصافیوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس کو ایک بھی نشست نہ ملنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ ہم تسلیم کرتے ہیں ہم کو صفر ملا ہے ۔ جب کہ کانگریس کو 8 اور بی جے پی کو 8 نشستوں پر کامیابی ملی ۔ دونوں کے نشستیں ملانے پر 16 ہوتے ہیں پھر بھی مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کو صفر ملا ہے ۔۔ 2