پارٹی کا نام دوبارہ ٹی آر ایس رکھنے پر غور، منچریال میں بی آر ایس لیڈر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 12 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے اعلان کیا کہ ریاست میں عوامی مسائل کے حل کیلئے آئندہ سال 2027 میں ریاست گیر پدیاترا کا اہتمام کریں گے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پارٹی کا نام دوبارہ ٹی آر ایس (تلنگانہ راشٹرا سمیتی) رکھا جائے۔ اس سلسلہ میں پارٹی سربراہ کے سی آر کا فیصلہ قطعی رہے گا۔ آئندہ انتخابات میں بی جے پی سے مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ان کی پارٹی تنہا مقابلہ کرے گی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ مفاہمت پر سابق کے تجربات کی روشنی میں تنہا مقابلہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ منچریال ضلع میں پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ حلقہ جات کی ازسر نو حد بندی سے ریاست میں اسمبلی اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجہ میں پارٹی قائدین کیلئے زائد مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مئی اور جون میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم کا آغاز کیا جائیگا اور کارکنوں کیلئے ٹریننگ کیمپس منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کا تحفظ صرف کے سی آر کے ذریعہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت رعیتو بندھو، کسانوں کے قرض معافی اور طلبہ کیلئے فیس ریمبرسمنٹ کی اجرائی میں ناکام ہوچکی ہے۔ خلیجی ممالک میں کریم نگر، نظام آباد اور عادل آباد سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ہیں جن کی بھلائی کیلئے بی آر ایس نے گلف پالیسی تیار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جیون ریڈی کی بی آر ایس میں شمولیت سے متحدہ کریم نگر میں پارٹی مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ریونت ریڈی حکومت پر عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے اور آئندہ انتخابات میں بی آر ایس کی کامیابی یقینی ہے اور کے سی آر دوبارہ چیف منسٹر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں کا بی جے پی کا نعرہ مضحکہ خیز ہے۔ 1؍F