کے ٹی آر کی گرفتاری کی راہ ہموار، اینٹی کرپشن بیورو کے مقدمہ کے خلاف درخواست مسترد

,

   

… ( فارمولہ ای ریسنگ مقدمہ کا فیصلہ صادر ) …
تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے جسٹس لکشمن کا استدلال، عدم گرفتاری پر حکم التواء ختم ، 10دن توسیع کی درخواست بھی نامنظور

حیدرآباد۔/7 جنوری، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے آج اس وقت دھکہ لگا جب ہائی کورٹ نے فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں اینٹی کرپشن بیورو کے مقدمہ کے خلاف درخواست کو مسترد کردیا۔ ہائی کورٹ نے کے ٹی آر کی گرفتاری پر عبوری حکم التواء کو بھی ختم کردیا جس سے اُن کی گرفتاری کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ جسٹس کے لکشمن نے اینٹی کرپشن بیورو کے مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کیلئے کے ٹی آر کی جانب سے دائر کی گئی کواش پٹیشن پر فریقین کی سماعت مکمل کرتے ہوئے 31 ڈسمبر کو فیصلہ محفوظ کردیا تھا۔ عدالت نے اینٹی کرپشن بیورو کو ہدایت دی تھی کہ قطعی فیصلہ صادر ہونے تک کے ٹی آر کو گرفتار نہ کیا جائے۔ جسٹس کے لکشمن نے آج فیصلہ سنایا جس کے نتیجہ میں اینٹی کرپشن بیورو کے مقدمہ کو برقرار رکھا گیا ہے۔ کے ٹی آر کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ عدم گرفتاری سے متعلق حکم التواء کو مزید 10 دنوں تک توسیع دی جائے لیکن جسٹس لکشمن نے اس درخواست کو نامنظور کردیا۔ کے ٹی آر کے وکلاء ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی نے بحث کی اور کہا کہ فارمولہ ای ریسنگ کے سلسلہ میں معاہدہ سے قبل ہی 46 کروڑ روپئے برطانوی پاونڈ کی شکل میں ادا کئے گئے۔ کار ریسنگ سیزن 10 کے معاہدہ سے قبل ہی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاری رقم ادا کی گئی۔ ہائی کورٹ نے تحقیقات کی پیشرفت کے بارے میں سوال کیا جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ابتدائی مرحلہ میں ہیں اور عہدیدار درکار شواہد اکٹھا کررہے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ اس مقدمہ میں تاحال کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ گورنر کی اجازت ملنے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق دانا کشور کے وکیل سی پی موہن ریڈی نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت کے وزیر بلدی نظم و نسق کی ہدایت پر عہدیداروں نے رقومات جاری کی ہیں۔ موہن ریڈی نے رقم کی ادائیگی کے سلسلہ میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی۔ کے ٹی آر کی جانب سے سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ داوے نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن بیورو نے جن بنیادوں پر مقدمہ درج کیا ہے اس کا اطلاق کے ٹی آر پر نہیں ہوتا۔ رقومات کی منتقلی میں کے ٹی آر کا کوئی دخل نہیں ہے اور اے سی بی کی ایف آئی آر میں بدعنوانیوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ سدھارتھ داوے نے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی۔ جسٹس کے لکشمن نے آج 35 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلہ میں کے ٹی آر کی جانب سے پیش کردہ دلائل کو نامنظور کرتے ہوئے اینٹی کرپشن بیورو کے مقدمہ کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت کی جانب سے اے سی بی تحقیقات میں مداخلت سے انکار کیا گیا۔ جسٹس لکشمن نے کہا کہ اینٹی کرپشن بیورو کو تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت ہے۔ عدم گرفتاری سے متعلق عبوری حکم التواء کو ختم کرنے سے کے ٹی آر کو دھکہ پہنچا۔ کے ٹی آر نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر وکلاء سے مشاورت کی ہے اور سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو نے فارمولہ ای ریسنگ مقدمہ میں کے ٹی آر کو A1 ، آئی اے ایس عہدیدار اروند کمار کو A2 اور ایچ ایم ڈی اے کے ریٹائرڈ چیف انجینئر بی ایل این ریڈی کو A3 بنایا ہے۔ لندن کی ایک خانگی کمپنی کو 55 کروڑ روپئے کی ادائیگی کے خلاف موجودہ پرنسپل سکریٹری دانا کشور نے اینٹی کرپشن بیورو میں شکایت درج کرائی ہے۔1