حکومت سے مختلف تنظیموں کی نمائندگی، ریاستوں میں مقامی حالات کے تحت فیصلے
حیدرآباد۔ 31 مئی (سیاست نیوز) مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے یا ملک بھر میں ذبیحہ گاؤ پر پابندی کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ سماج کے مختلف گوشوں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جائے تاکہ عید اور تہوار کے موقع پر بھی گائے کی قربانی کو روکا جاسکے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت اور ارکان پارلیمنٹ کو مختلف گوشوں سے باقاعدگی کے ساتھ یہ نمائندگیاں وصول ہو رہی ہیں کہ گائے کو قومی جانور کا درجہ دیا جائے اور ذبیحہ پر ملک بھر میں پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف تنظیمیں جو اس معاملہ میں کام کرتی ہیں وہ ارکان پارلیمنٹ سے رجوع ہوکر نمائندگی کررہی ہیں۔ مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ اس سلسلہ میں فی الوقت مرکزی حکومت کے پاس کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی معاملہ کابینہ کے زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ حکومت یا کابینہ کی مداخلت ضروری ہے تو اس وقت میڈیا کو واقف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں اس بارے میں مقامی صورتحال اور ضرورت کے مطابق فیصلے کئے ہیں۔ مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے 1950 کے قانون کے تحت بڑے جانوروں کی قربانی کو روکنے کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ مرکزی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ذبیحہ گاؤ پر مکمل پابندی کے مطالبہ کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر سوشیل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمس پر مباحث جاری ہیں۔ کئی ہندو تنظیموں نے ملک میں ذبیحہ گاؤ پر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ کئی مسلم تنظیموں اور مذہبی شخصیتوں نے گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے اس مطالبہ کی تائید کی ہے۔ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے بھی یہ کہتے ہوئے تجویز کی تائید کی کہ گئے کو قومی جانور کا درجہ دینے سے ذبیحہ گاؤ کے سلسلہ میں تنازعہ سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ حامد انصاری نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ گائے کی قربانی سے گریز کریں کیونکہ اسلام کسی مخصوص جانور کی قربانی کے لئے پابند نہیں کرتا۔ مولانا خالد راشد فرنگی محل رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبہ کی تائید کی ہے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں عید الاضحی سے عین قبل ذبیحہ گاؤ کو روکنے کے لئے ہندو تنظیمیں متحرک ہوچکی تھیں اور کئی ریاستوں میں بڑے جانور کو منتقل کرنے والے تاجروں پر حملے کے واقعات بھی پیش آئے۔ 1؍F