گاڑیوں کی فروخت میں کمی، مہنگائی میں اضافہ معاشی بحران کی علامتیں

   

نئی دہلی، 5 جون (یواین آئی) لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں کمی سنگین اقتصادی بحران کی نشاندہی کرتی ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی اقتصادی حالت ٹھیک نہیں ہے اور حکومت کی غلط اقتصادی پالیسیوں کا خمیازہ عام لوگ بھگت رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ ایک طرف گاڑیوں اور موبائل جیسی ضروری اشیاء کی فروخت میں کمی ہو رہی ہے اور دوسری طرف تعلیم، مکان کا کرایہ اور گھریلو سامان کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جس میں عام آدمی کو نقصان ہو رہا ہے اور حکومت اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں 17 فیصد اور کاروں کی فروخت میں 8.6 فیصد کمی آئی ہے ، موبائل مارکیٹ میں سات فیصد کی کمی ہوئی ہے ، دوسری طرف اخراجات اور قرض دونوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ مکان کا کرایہ، گھریلو مہنگائی، تعلیم کے اخراجات، تقریباً ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ معاشی دباؤ کی حقیقت ہے جس میں عام ہندوستانی مبتلا ہے ۔ ملک کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری کی چمک سے نہ جڑی ہو بلکہ عام زندگی کی حقیقت سے جڑی ہو۔ ملک کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو صحیح سوال کرے ، حالات کو سمجھے اور ذمہ داری سے جواب دے ۔ ہمیں ایک ایسی معیشت کی ضرورت ہے جو ہر ہندوستانی کے لیے کام کرے ، نہ کہ صرف چند چند سرمایہ داروں کے لیے ۔