گجرات کی نظریں پلے آف پر، کولکاتہ کامیابی کا خواہاں

   

کولکاتا، 15مئی (یواین آئی) انڈین پریمیئر لیگ کے60 ویں میچ میں کے کے آر کا مقابلہ شاندار فارم میں موجود گجرات ٹائٹنز سے ہوگا، جو جذبات، دباؤ اور پلے آف کی اہمیت سے بھرپور ہوگا۔ کے کے آر کے لیے صورتحال واضح مگر مشکل ہے ۔ جیتو یا اپنی پلے آف امیدوں کو ختم ہوتے دیکھو۔ دوسری جانب گجرات ٹائٹنز مسلسل پانچ فتوحات کے بعد زبردست واپسی کرتے ہوئے پوائنٹس ٹیبل کے اوپری حصے میں پہنچ چکی ہے اور رسائی کے قریب کھڑی ہے ۔ یہ مقابلہ فطری طور پر شبھمن گل کے گرد گھوم رہا ہے ، جنہیں کبھی کے کے آر کا مستقبل تصورکیا جاتا تھا، لیکن اب وہ گجرات ٹائٹنز کے کپتان اور بیٹنگ کے ستون بن چکے ہیں۔ اس سیزن کے آغاز میں گل نے اپنی سابق ٹیم کے خلاف86 رنزکی شاندار اننگز کھیلتے ہوئے جی ٹی کو 181 رنز کا ہدف پانچ وکٹوں سے حاصل کروایا تھا۔ اس کامیابی کے ساتھ گجرات نے کولکاتا کے خلاف اپنی مسلسل فتوحات کا سلسلہ تین میچوں تک پہنچا دیا تھا۔ اب گل اسی میدان میں واپس آ رہے ہیں جہاں کبھی انہیں بے پناہ حمایت حاصل تھی اور ممکن ہے کہ ان پرکے کے آر کی مہم کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ذمہ داری بھی ہو۔ گجرات ٹائٹنز اس وقت ٹورنمنٹ کی سب سے متوازن ٹیموں میں شمار ہورہی ہے ۔ ان کی بیٹنگ زیادہ تر شبھمن گل اور سائی سدرشن کی مستقل کارکردگی کے گرد گھومتی رہی ہے ۔ سدرشن اس سیزن میں ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد سے500 سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں، جبکہ گل نے بطور قابلِ اعتماد ٹاپ آرڈر اپنی ساکھ برقرار رکھی ہے ۔ تیسرے نمبر پر جوس بٹلرکی موجودگی نے گجرات کے ٹاپ آرڈرکو مزید مضبوط بنایا ہے ، جس سے ٹیم کو پاور پلے اور مڈل اوورز دونوں میں برتری حاصل ہوئی ہے ۔ اگرچہ مڈل آرڈر مکمل طور پرکامیاب نہیں رہا، لیکن ٹیم کے بولنگ شعبہ نے اس کمی کو بخوبی پوراکیا ہے ۔ جنوبی افریقی فاسٹ بولرکگیسو ربادا21 وکٹوں کے ساتھ قیادت کر رہے ہیں، جبکہ آل راؤنڈر جیسن ہولڈر نے اہم مواقع پر وکٹیں لے کر دباؤ برقرار رکھا ہے ۔ گجرات کے بولروں نے گزشتہ چار میچوں میں39 وکٹیں حاصل کی ہیں، جو ان کی مسلسل کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے ۔ دوسری طرف کے کے آر نے سیزن کے ابتدائی حصے میں تقریباً باہر ہونے کے بعد واپسی کے آثار دکھائے ہیں۔ راجستھان رائلز، لکھنؤ سوپر جائنٹس، سن رائزرس حیدرآباد اور دہلی کیپٹلس کے خلاف مسلسل چار فتوحات نے ٹیم کا اعتماد بحال کیا، لیکن رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف شکست کے بعد ان کی رفتار متاثر ہوئی۔ نوجوان بیٹر انگکرش رگھوونشی اس سیزن میں کے کے آر کے لیے سب سے مثبت پہلو بن کر سامنے آئے ہیں۔ اس نوجوان نے دباؤ میں عمدہ رنز بنائے ہیں اور اننگز سنبھالنے میں پختگی دکھائی ہے ۔ دھماکہ خیز اوپنر فن ایلن نے بھی بے خوف بیٹنگ سے ٹیم کو جارحانہ آغاز فراہم کیا ہے ، جبکہ رنکو سنگھ مڈل آرڈر میں فنشر کا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ کے کے آرکے لیے سب سے بڑا چیلنج گجرات کے تیز رفتار بولنگ کا سامنا کرنا ۔ ساتھ ہی میزبان ٹیم ایڈن گارڈنز کی اسپن ساز وکٹوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے تجربہ کار اسپنرز سنیل نارائن اور ورون چکرورتی پر کافی انحصار کرے گی۔

سنجوکو ہندوستان کا کپتان ہونا چاہئے :شاستری
دبئی، 15مئی (یواین آئی) ہندوستان کے سابق کوچ روی شاستری کا ماننا ہے کہ شاندار فارم میں موجود سنجو سیمسن ہندوستان کی ٹی20کپتانی کے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں۔ سوریاکمار یادو نے دو ماہ قبل ہندوستان کو گھریلو میدان پر آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈکپ کا خطاب دلایا تھا، جہاں سنجو سیمسن کو پلیئر آف دی ٹورنمنٹ منتخب کیا گیا تھا۔ آئی سی سی ریویو میں شاستری نے کہاکہ ہندوستان اگلے ٹی20 ورلڈکپ 2028 میں ایک نئے کپتان کی تلاش کر سکتا ہے ، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ سوریا اگلے چند برسوں میں کیسا مظاہرہ کرتے ہیں،لیکن سنجو نے خود کو قیادت کے کردار کے لیے تیار کر لیا ہے کیونکہ وہ پہلے راجستھان رائلز کی قیادت کر چکے ہیں۔ وہ ٹیم کے ٹاپ آرڈر میں ایک مستقل اور انتہائی خطرناکبیٹر ہیں۔