گجویل۔ سدی پیٹ اور سرسلہ میں بی آر ایس سے زیادہ قرض معاف کیا گیا

   

اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر کا جواب، دیہاتوں میں بورڈس کے ذریعہ ڈسپلے کرنے کا اعلان

حیدرآباد ۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارک نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا اور وعدے کے مطابق قرض معاف کیا گیا لیکن بی آر ایس پارٹی جھوٹی تشہیر کرتے ہوئے عوام اور کسانوں کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اسمبلی میں بات کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے بی آر ایس کو جھوٹی تشہیر سے دستبردار ہوجانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ کسانوں کے قرض معافی کا حکومت کے پاس مکمل ثبوت موجود ہے۔ ریاست کے تمام گاؤں میں قرض معافی کی تفصیلات سے متعلق بورڈس آویزاں کرنے کا اعلان کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اندرون ایک سال کانگریس حکومت نے کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک قرض معاف کیا ہے۔ سابق چیف منسٹر کے سی آر کے اسمبلی حلقہ گجویل میں کسانوں کے 237 کروڑ، بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کے اسمبلی حلقہ سرسلہ میں 175 کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اسمبلی کے باہر بھی کسانوں کے قرض معافی کی تفصیلات کے بورڈس بھی لگائے جائیں گے۔ بی جے پی کے قائد مقننہ کے اسمبلی حلقہ نرمل میں کسانوں کے 202 کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے گئے۔ بی آر ایس کے دورحکومت میں اسمبلی حلقہ سدی پیٹ میں 96.62 کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے گئے جبکہ کانگریس حکومت نے اسمبلی حلقہ سدی پیٹ میں کسانوں کے 177 کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کے کونسے اسمبلی حلقہ میں کتنا قرض معاف کیا گیا، حکومت کے پاس مکمل ریکارڈ ہے۔ کانگریس حکومت تمام وعدوں پر عمل کرے گی۔ ریاست کا خزانہ عوام کیلئے ہے بی آر ایس قائدین کیلئے نہیں ہے۔ جھوٹی تشہیر کرنے پر برداشت نہ کرنے کا بی آر ایس کو انتباہ دیا۔2